شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 160 of 203

شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 160

وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَّ بِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَمَىٰ وَالْمَسْكِينِ وَالْجَارِذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِيْلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالاً فَخُوْرًا (1) تم لان خدا کی پرستش کرو اور اُس کے ساتھ کسی کو مت شریک ٹھہراؤ اور اپنے ماں باپ سے احسان کرو اور اُن سے بھی احسان کرو جو تمہارے قرابتی ہیں (اس فقرہ میں اولا د اور بھائی اور قریب اور دور کے تمام رشتہ دار آگئے ) اور پھر فرمایا کہ میموں کے ساتھ بھی احسان کرو اور مسکینوں کے ساتھ بھی اور جو ایسے ہمسایہ ہوں جو قرابت والے بھی ہوں اور ایسے ہمسایہ ہوں جو محض اجنبی ہوں اور ایسے رفیق بھی جو کسی کام میں شریک ہوں یا کسی سفر میں شریک ہوں یا نماز میں شریک ہوں یا علم دین حاصل کرنے میں شریک ہوں اور وہ لوگ جو مسافر ہیں اور وہ تمام جاندار جو تمہارے قبضہ میں ہیں سب کے ساتھ احسان کرو۔خدا ایسے شخص کو دوست نہیں رکھتا جو تکبر کرنے والا اور شیخی مارنے والا ہو جو دوسروں پر رحم نہیں کرتا۔“ (چشمه معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۰۹۔۲۰۸) حضرت خلیفتہ المسیح الاول اس بارہ میں فرماتے ہیں: منشاء یہ ہو کہ اس لئے کھانا پہنچاتے ہیں کہ ﴿إِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا يَوْمًا عَبُوْسًا فَمُطَرِيرًا ﴾ (۲) کہ ہم اپنے رب سے ایک دن سے جو عبوس اور قمطریر ہے ڈرتے ہیں۔عَبُوس تنگی کو کہتے ہیں اور قَمْطَریر دراز یعنی لمبے کو۔یعنی قیامت کا دن تنگی کا ہوگا اور لمبا ہو گا۔بھوکوں کی مدد کرنے سے خدا تعالیٰ قحط کی تنگی اور درازی سے بھی (۱) النساء آیت ۳۷ (۲) الدهر آیت ١١۔160