شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 158 of 203

شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 158

سنبھال کر رکھے۔“ پھر فرماتے ہیں: (ملفوظات جلد ۹۔صفحه ۱۶۴۔۱۶۵) یا درکھو حقوق کی دو قسمیں ہیں۔ایک حق اللہ دوسرے حق العباد۔حق اللہ میں بھی امراء کو دقت پیش آتی ہے اور تکبر اور خود پسندی ان کو محروم کر دیتی ہے مثلاً نماز کے وقت ایک غریب کے پاس کھڑا ہونا بُر ا معلوم ہوتا ہے۔اُن کو اپنے پاس بٹھا نہیں سکتے اور اس طرح پر وہ حق اللہ سے محروم رہ جاتے ہیں کیونکہ مساجد تو دراصل بیت المساکین ہوتی ہیں۔اور وہ ان میں جانا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں اور اسی طرح وہ حق العباد میں خاص خاص خدمتوں میں حصہ نہیں لے سکتے۔غریب آدمی تو ہر ایک قسم کی خدمت کے لئے تیار رہتا ہے۔وہ پاؤں دبا سکتا ہے۔پانی لاسکتا ہے۔کپڑے دھوسکتا ہے یہاں تک کہ اُس کو اگر نجاست پھینکنے کا موقعہ ملے تو اس میں بھی اُسے دریغ نہیں ہوتا ، لیکن امراء ایسے کاموں میں ننگ و عار سمجھتے ہیں اور اس طرح پر اس سے بھی محروم رہتے ہیں۔غرض امارت بھی بہت سی نیکیوں کے حاصل کرنے سے روک دیتی ہے۔یہی وجہ ہے جو حدیث میں آیا ہے کہ مساکین پانچ سو برس اول جنت میں جائیں گے۔“ ( ملفوظات جلد سوم صفحه ۳۶۸ جدید ایڈیشن) فرماتے ہیں: ” پس مخلوق کی ہمدردی ایک ایسی شئے ہے کہ اگر انسان اسے چھوڑ دے اور اس سے دور ہوتا جاوے تو رفتہ رفتہ پھر وہ درندہ ہو جاتا ہے۔انسان کی انسانیت کا یہی تقاضا ہے اور وہ اسی وقت تک انسان ہے جب تک اپنے دوسرے بھائی کے ساتھ مروت، سلوک اور احسان سے کام لیتا ہے اور اس میں کسی قسم کی 158