شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 150 of 203

شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 150

خیال رکھتے ہیں ، آپ بھوکے رہتے ہیں اور ان کو کھلاتے ہیں۔تھر دلی کا مظاہرہ نہیں کرتے کہ جو دے رہے ہیں وہ اس کو جس کو دیا جارہا ہے اس کی ضرورت بھی پوری نہ کر سکے، اس کی بھوک بھی نہ مٹا سکے۔بلکہ جس حد تک ممکن ہو مدد کرتے ہیں اور یہ سب کچھ نیکی کمانے کے لئے کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر کرتے ہیں۔کسی قسم کا احسان جتانے کے لئے نہیں کرتے۔اور اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ وہ چیز دیتے ہیں جس کی ان کو ضرورت ہے یعنی اس دینے والے کو جس کی ضرورت ہے جس کو وہ خود اپنے لئے پسند کرتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو ہمیشہ ذہن میں رکھتے ہیں کہ اللہ کی خاطر وہی دو جس کو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو۔یہ نہیں کہ جس طرح بعض لوگ اپنے کسی ضرورتمند بھائی کی مدد کرتے ہیں تو احسان جتا کے کر رہے ہوتے ہیں۔بلکہ بعض تو ایسی عجیب فطرت کے ہیں کہ تحفے بھی اگر دیتے ہیں تو اپنی استعمال شدہ چیزوں میں سے دیتے ہیں یا پہنے ہوئے کپڑوں کے دیتے ہیں۔تو ایسے لوگوں کو اپنے بھائیوں، بہنوں کی عزت کا خیال رکھنا چاہئے۔بہتر ہے کہ اگر توفیق نہیں ہے تو تحفہ نہ دیں یا یہ بتا کر دیں کہ یہ میری استعمال شدہ چیز ہے اگر پسند کرو تو دوں۔پھر بعض لوگ لکھتے ہیں کہ ہم غریب بچیوں کی شادیوں کے لئے اچھے کپڑے دینا چاہتے ہیں جو ہم نے ایک آدھ دن پہنے ہوئے ہیں۔اور پھر چھوٹے ہوگئے یا کسی وجہ سے استعمال نہیں کر سکے۔تو اس کے بارہ میں واضح ہو کہ چاہے ایسی چیزیں ذیلی تنظیموں ، لجنہ وغیرہ کے ذریعہ یا خدام الاحمدیہ کے ذریعہ ہی دی جا رہی ہوں یا انفردی طور پر دی جارہی ہوں تو ان ذیلی تنظیموں کو بھی یہی کہا جاتا ہے کہ اگر ایسے لوگ چیزیں دیں تو غریبوں کی عزت کا خیال 150)