شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 144 of 203

شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 144

موقوف ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کا دوسرے لفظوں میں اسلام نام ہے۔اسی اسلام کا زندہ کرنا خدا تعالیٰ اب چاہتا ہے اور ضرور تھا کہ وہ اس مہم عظیم کے رو براہ کرنے کے لئے ایک عظیم الشان کارخانہ جو ہر ایک پہلو سے مؤثر ہو اپنی طرف سے قائم کرتا۔سواس حکیم وقد میر نے اس عاجز کو اصلاح خلائق کے لئے بھیج کر ایسا ہی کیا۔(فتح اسلام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۰ تا ۱۲) پھر آپ فرماتے ہیں : ” جب تک انسان صدق وصفا کے ساتھ خدا تعالیٰ کا بندہ نہ ہوگا تب تک کوئی درجہ ملنا مشکل ہے۔جب ابراہیم کی نسبت خدا تعالیٰ نے شہادت دی ﴿وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفی (1) کہ ابراہیم وہ شخص ہے جس نے اپنی بات کو پورا کیا۔تو اس طرح سے اپنے دل کو غیر سے پاک کرنا اور محبت الہی سے بھرنا خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق چلنا اور جیسے ظل اصل کا تابع ہوتا ہے ویسے ہی تابع ہونا کہ اس کی اور خدا کی مرضی ایک ہو، کوئی فرق نہ ہو۔یہ سب باتیں دعا سے حاصل ہوتی ہیں۔نماز اصل میں دعا کے لئے ہے کہ ہر ایک مقام پر دعا کرے لیکن جو شخص سویا ہوا نماز ادا کرتا ہے کہ اسے اس کی خبر ہی نہیں ہوتی تو وہ اصل میں نماز نہیں۔پس چاہئے کہ ادائیگی نماز میں انسان سست نہ ہو اور نہ غافل ہو۔ہماری جماعت اگر جماعت بننا چاہتی ہے تو اسے چاہئے کہ ایک موت اختیار کرے۔نفسانی امور اور نفسانی اغراض سے بچے اور اللہ تعالیٰ کو سب شئے پر مقدم رکھنے“۔(ملفوظات جلد سوم جدید ایڈیشن صفحه ۴۵۷۔۴۵۸) (۱) النجم آیت ۳۸۔144