شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 5
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ بیعت لیتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک کسی عورت کے ہاتھ سے مس نہ ہوتا تھا سوائے اس عورت کے جو آپ کی اپنی ہوتی۔( صحیح بخاری۔کتاب الاحكام۔باب بيعة النساء) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت لینے کے آغاز سے قبل بعض نیک فطرت اور اسلام کا در درکھنے والے بزرگوں کو یہ احساس تھا کہ اس وقت اسلام کی اس ڈولتی کشتی کو ڈوبنے سے بچانے والا اور اسلام کا صحیح در در کھنے والا اگر کوئی شخص ہے تو وہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی ہی ہیں اور یہی مسیح و مہدی بھی ہیں۔چنانچہ لوگ آپ سے درخواست کیا کرتے تھے کہ آپ بیعت لیں لیکن حضور ہمیشہ یہی جواب دیتے تھے کہ ” لَسْتُ بِمَامُورٍ “ (یعنی میں مامور نہیں ہوں )۔چنانچہ ایک دفعہ آپ نے میر عباس علی صاحب کی معرفت مولوی عبد القادر صاحب کو صاف صاف لکھا کہ اس عاجز کی فطرت پر توحید اور تفویض الی اللہ غالب ہے اور۔۔۔چونکہ بیعت کے بارے میں اب تک خداوند کریم کی طرف سے کچھ علم نہیں۔اس لئے تکلف کی راہ میں قدم رکھنا جائز نہیں۔لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا - مولوی صاحب اخوت دین کے بڑھانے میں کوشش کریں۔اور اخلاص اور محبت کے چشمہ صافی سے اس پودا کی پرورش میں مصروف رہیں تو یہی طریق انشاء اللہ بہت مفید ہوگا۔(حیات احمد جلد دوم نمبر دوم صفحه ۱۲-۱۳) 5