شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 115 of 203

شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 115

کہ لوگوں کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے اور دل ڈر گئے حاضرین میں سے ایک نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول یہ تو الوداعی وعظ لگتا ہے۔آپ کی نصیحت کیا ہے؟ آپ نے فرمایا میری وصیت یہ ہے کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، بات سنو اور اطاعت کرو خواہ تمہارا امیر ایک حبشی غلام ہو۔کیونکہ ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی میرے بعد زندہ رہا تو بہت بڑے اختلافات دیکھے گا۔پس تم ان نازک حالات میں میری اور میری ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت کی پیروی کرنا اور اسے پکڑ لینا، دانتوں سے مضبوط گرفت میں کر لینا۔تمہیں دین میں نئی باتوں کی ایجاد سے بچنا ہو گا۔کیونکہ ہر نئی بات جو دین کے نام سے جاری ہو بدعت ہے اور بدعت نری گمراہی ہے۔(ترمذى كتاب العلم باب الاخذ بالسنة ، ابو داؤد كتاب السنة باب لزوم السنة) آنحضرت ﷺ کی کامل پیروی اور ایمان کا دعویٰ کرنے والے ہم صلى الله علوم احمدی جو ہیں ان کو ہر وقت اس نصیحت اور اس حدیث کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔اسی طرح ایک روایت ہے : حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس میں تین باتیں ہوں وہ ایمان کی حلاوت کو پالیتا ہے۔نمبر ایک اللہ اور اس کا رسول دیگر تمام وجودوں سے اسے زیادہ محبوب ہوں۔دو یہ کہ وہ کسی شخص کو صرف اللہ تعالیٰ کی محبت کی خاطر محبوب رکھے۔اور تین یہ ہے کہ وہ کفر میں لوٹنے کو اس طرح نا پسند کرے جس طرح وہ آگ میں ڈالے جانے کو نا پسند کرتا ہے۔(بخاری کتاب الایمان باب حلاوة الايمان ) 115