شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 15
نے فرمایا۔ہاں! البتہ میری امت شمس و قمر ، بتوں اور پتھروں کی عبادت تو نہیں کریں گے۔مگر اپنے اعمال میں ریاء سے کام لیں گے اور مخفی خواہشات میں مبتلا ہو جائیں گے۔اگر ان میں سے کوئی روزہ دار ہونے کی حالت میں صبح کرے گا پھر اس کو اس کی کوئی خواہش معارض ہو گئی تو وہ روزہ ترک کر کے اس خواہش میں مبتلا ہو جائے گا۔(مسند احمد بن حنبل جلد ۴ صفحه ۱۲۴ مطبوعه بیروت) شرک کی مختلف اقسام گو جس طرح اس حدیث سے ظاہر ہے کہ ظاہری شرک ، بتوں، مورتیوں، چاند کی عبادت کر کے نہ بھی ہو تو ریاء اور خواہشات کی پیروی بھی شرک ہے۔اگر ایک ماتحت اپنے افسر کی اطاعت سے بڑھ کر خوشامد کی حد تک اس کے آگے پیچھے پھرتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ اس سے میری روزی وابستہ ہے تو یہ بھی شرک کی ہی ایک قسم ہے۔اگر کسی کو اپنے بیٹوں پر ناز ہے کہ میرے اتنے بیٹے ہیں اور یہ بڑے ہو رہے ہیں اور کام پر لگ جائیں گے ، کمائیں گے ، مجھے سنبھالیں گے اور اب میں آرام سے اپنی بقیہ عمر گزاروں گا۔یا میرے ان جوان بیٹوں کی وجہ سے میرے شریک میرا مقابلہ نہیں کرسکیں گے۔( برصغیر میں بلکہ ساری تیسری دنیا میں شریکے کی ایک بڑی گندی رسم ہے)۔مکمل انحصار ان بیٹوں پر ہے۔اور وہ ناخلف نکلتے ہیں یا کسی حادثہ میں فوت ہو جاتے ہیں یا معذور ہو جاتے ہیں تو ایسے شخص کے تو تمام سہارے ختم ہو گئے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: تو حید صرف اس بات کا نام نہیں کہ منہ سے لَا إِلهُ إِلَّا اللہ کہیں اور دل میں 15