شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 191
وقت جہاز پر بیٹھ گیا۔لیکن جو شخص مجھے نہیں مانتا میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ طوفان میں اپنے تئیں ڈال رہا ہے اور کوئی بچنے کا سامان اس کے پاس نہیں۔سچا شفیع میں ہوں جو اس بزرگ شفیع کا سایہ ہوں اور اس کا ظل جس کو اس زمانہ کے اندھوں نے قبول نہ کیا اور اس کی بہت ہی تحقیر کی یعنی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم۔دافع البلاء۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه (۲۳۳) یہ اس لئے فرمایا ہے کیونکہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے دو فائدے پھر آپ فرماتے ہیں: " غرض اس بہت سے جو میرے ہاتھ پر کی جاتی ہے دو فائدے ہیں ایک تو یہ کہ گناہ بخشے جاتے ہیں اور انسان خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق مغفرت کا مستحق ہوتا ہے۔دوسرے مامور کے سامنے تو بہ کرنے سے طاقت ملتی ہے اور انسان شیطانی حملوں سے بچ جاتا ہے۔یاد رکھو کہ اس سلسلہ میں داخل ہونے سے دنیا مقصود نہ ہو بلکہ خدا تعالیٰ کی رضا مقصود ہو کیونکہ دنیا تو گزرنے کی جگہ ہے وہ تو کسی نہ کسی رنگ میں گزر جائے گی۔شب تنور گذشت و شب سمور گذشت۔دنیا اور اس کے اغراض اور مقاصد کو بالکل الگ رکھو۔ان کو دین کے ساتھ ہرگز نہ ملاؤ کیونکہ دنیا فنا ہونے والی چیز ہے اور دین اور اس کے ثمرات باقی رہنے والے۔(ملفوظات جلد ششم صفحه ۱۴۵) 191)