شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 9
رب جلیل نے یہی چاہا ہے وہ قادر ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ہر یک طاقت اور قدرت اسی کو ہے۔“ اسی اشتہار میں آپ نے ہدایت فرمائی کہ بیعت کرنے والے اصحاب ۲۰ / مارچ کے بعد لدھیانہ پہنچ جائیں۔(تبلیغ رسالت جلد اول صفحه ۱۵۰ تا ۱۵۵) سلسلہ بیعت کا آغاز چنانچہ اس کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۲۳ / مارچ ۱۸۸۹ء کو صوفی احمد جان صاحب کے مکان واقع محلہ جدید میں بیعت لی اور حضرت منشی عبداللہ سنوری صاحب کی روایت کے مطابق بیعت کے تاریخی الفاظ کے لئے ایک رجسٹر تیار کیا گیا جس کا نام ” بیعت تو بہ برائے تقویٰ وطہارت رکھا گیا۔اس زمانہ میں حضور علیہ السلام بیعت کرنے کے لئے ایک کمرے میں ہر ایک کو الگ الگ بلاتے تھے اور بیعت لیتے تھے۔چنانچہ سب سے پہلی بیعت آپ نے حضرت مولانا نورالدین رضی اللہ عنہ کی لی۔بیعت کرنے والوں کو نصائح فرماتے ہوئے حضرت اقدس فرماتے ہیں: اس جماعت میں داخل ہو کر اول زندگی میں تغیر کرنا چاہئے۔کہ خدا پر ایمان سچا ہو اور وہ ہر مصیبت میں کام آئے۔پھر اس کے احکام کو نظر خفت سے نہ دیکھا جائے بلکہ ایک ایک حکم کی تعظیم کی جائے اور عملاً اس تعظیم کا ثبوت دیا جائے۔“ ہمہ وجوہ اسباب پر سرنگوں ہونا اور اسی پر بھروسہ کرنا اور خدا پر تو کل چھوڑ دینا یہ