شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 172 of 203

شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 172

سیدھی نہیں ہو سکتی تھیں۔پس جو لوگ اس پر ایمان لائیں گے اور اپنی شمولیت کے ساتھ اس کو قوت دیں گے اور اس کی مدد کریں گے اور اس نور کی پیروی کریں گے جو اس کے ساتھ اتارا گیا وہ دنیا اور آخرت کی مشکلات سے نجات پائیں گے۔(براہین احمدیه حصه پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحه 420) پس جب نبی اللہ تعالیٰ کے احکامات سے پرے نہیں ہٹتا تو خلیفہ بھی جو نبی کے بعد اس کے مشن کو چلانے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومنین کی ایک جماعت کے ذریعہ مقرر کردہ ہوتا ہے۔وہ بھی اسی تعلیم کو، انہیں احکامات کو آگے چلاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کے ذریعہ ہم تک پہنچائے اور اس زمانے میں آنحضرت ﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وضاحت کر کے ہمیں بتائے۔تو اب اسی نظام خلافت کے مطابق جو آنحضرت ﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ جماعت میں قائم ہو چکا ہے اور انشاء اللہ قیامت تک قائم رہے گا۔ان میں شریعت اور عقل کے مطابق ہی فیصلے ہوتے رہے ہیں اور انشاء اللہ ہوتے رہیں گے اور یہی معروف فیصلے ہیں۔اگر کسی وقت خلیفہ وقت کسی غلطی یا غلط فہمی کی وجہ سے کوئی ایسا فیصلہ کر دیتا ہے جس سے نقصان پہنچنے کا احتمال ہو تو اللہ تعالیٰ خود ایسے سامان پیدا فرما دے گا کہ اس کے بدنتائج نہیں نکلیں گے۔اس بارہ میں حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: یہ تو ہو سکتا ہے کہ ذاتی معاملات میں خلیفہ وقت سے کوئی غلطی ہو جائے۔لیکن ان معاملات میں جن پر جماعت کی روحانی اور جسمانی ترقی کا انحصار ہوا گر اس سے کوئی غلطی سرزد بھی ہو تو اللہ تعالیٰ اپنی جماعت کی حفاظت فرماتا ہے اور کسی نہ کسی 172