شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 145
گناہ سے نجات کا ذریعہ۔یقین پھر آپ فرماتے ہیں: ” اے خدا کے طالب بندو! کان کھولو اور سنو کہ یقین جیسی کوئی چیز نہیں۔یقین ہی ہے جو گناہ سے چھڑاتا ہے۔یقین ہی ہے جو نیکی کرنے کی قوت دیتا ہے۔یقین ہی ہے جو خدا کا عاشق صادق بناتا ہے۔کیا تم گناہ کو بغیر یقین کے چھوڑ سکتے ہو۔کیا تم جذبات نفس سے بغیر یقینی تھیلی کے رک سکتے ہو۔کیا تم بغیر یقین کے کوئی تسلی پاسکتے ہو۔کیا تم بغیر یقین کے کوئی سچی تبدیلی پیدا کر سکتے ہو۔کیا تم بغیر یقین کے کوئی سچی خوشحالی حاصل کر سکتے ہو۔کیا آسمان کے نیچے کوئی ایسا کفارہ اور ایسا فدیہ ہے جو تم سے گناہ ترک کرا سکے۔پس تم یاد رکھو کہ بغیر یقین کے تم تاریک زندگی سے باہر نہیں آ سکتے اور نہ روح القدس تمہیں مل سکتا ہے۔مبارک وہ جو یقین رکھتے ہیں کیونکہ وہی خدا کو دیکھیں گے۔مبارک وہ جو شبہات اور شکوک سے نجات پاگئے ہیں کیونکہ وہی گناہ سے نجات پائیں گے۔مبارک تم جبکہ تمہیں یقین کی دولت دی جائے کہ اس کے بعد تمہارے گناہ کا خاتمہ ہو گا۔گناہ اور یقین دونوں جمع نہیں ہو سکتے۔کیا تم ایسے سوراخ میں ہاتھ ڈال سکتے ہو جس میں تم ایک سخت زہر یلے سانپ کو دیکھ رہے ہو۔کیا تم ایسی جگہ کھڑے رہ سکتے ہو جس جگہ کسی کو ہ آتش فشاں سے پتھر برستے ہیں یا بجلی پڑتی ہے یا ایک خونخوار شیر کے حملہ کرنے کی جگہ ہے یا ایک ایسی جگہ ہے جہاں ایک مہلک طاعون نسل انسانی کو معدوم کر رہی ہے۔پھر اگر تمہیں خدا پر ایسا ہی یقین ہے جیسا کہ سانپ پر یا بجلی پر یا شیر پر یاطاعون پرتو ممکن نہیں کہ اس کے مقابل پر تم 145