شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 125
گال پھلا کر ، تکبر کرتے ہوئے نہ پھرو۔تکبر کرنے والوں کا ایک خاص انداز ہوتا ہے اور گردن اکڑا کر پھر نا اللہ تعالیٰ کو بالکل پسند نہیں۔بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ اپنے سے کم درجہ والوں کے سامنے اکثر دکھا رہے ہوتے ہیں اور اپنے سے اوپر والے کے سامنے بچھتے چلے جاتے ہیں۔تو ایسے لوگوں میں منافقت کی برائی بھی ظاہر ہو رہی ہوتی ہے۔تو یہ تکبر جو ہے بہت سی اخلاقی برائیوں کا باعث بن جاتا ہے اور نیکی میں ترقی کے راستے آہستہ آہستہ بالکل بند ہو جاتے ہیں۔اور پھر دین سے بھی دور ہو جاتے ہیں، نظام جماعت سے بھی دور ہو جاتے ہیں۔اور جیسے جیسے ان کا تکبر بڑھتا ہے ویسے ویسے وہ اللہ اور رسول کے قرب سے، اس کے فضلوں سے بھی دور چلے جاتے ہیں۔ایک حدیث میں آتا ہے۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن تم میں سے سب سے زیادہ مجھے محبوب اور سب سے زیادہ میرے قریب وہ لوگ ہوں گے جوسب سے زیادہ اچھے اخلاق والے ہوں گے۔اور تم میں سے زیادہ مبغوض اور مجھ سے زیادہ دور وہ لوگ ہوں گے جو ثرثار یعنی منہ پھٹ ، بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے والے ہیں، متشدق یعنی منہ پھلا پھلا کر باتیں کرنے والے اور مُتفيهق یعنی لوگوں پر تکبر جتلانے والے ہیں۔صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ اثرثار اور متشدّق کے معنے تو ہم جانتے ہیں ، مُتفَيْهِق کسے کہتے ہیں۔آپ نے فرمایا: مُتفيهق متکبرانہ باتیں کرنے والے کو کہتے ہیں۔(ترمذى ابواب البر والصلة باب في ممالى الاخلاق) ایک اور حدیث ہے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، آنحضرت ﷺ نے فرمایا : تین باتیں ہر گناہ کی جڑ ہیں ان سے بچنا چاہئے۔تکبر سے 125