شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں — Page 112
بہت ہی پیار کر وایسا پیار کہ تم نے کسی سے نہ کیا ہو کیونکہ جیسا کہ خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا : الْخَيْرُ كُلُّهُ فِي الْقُرْآن کہ تمام قسم کی بھلائیاں قرآن میں ہیں۔یہی بات سچ ہے۔افسوس ان لوگوں پر جو کسی اور چیز کو اس پر مقدم رکھتے ہیں۔تمہاری تمام فلاح اور نجات کا سرچشمہ قرآن میں ہے۔کوئی بھی تمہاری ایسی دینی ضرورت نہیں جو قرآن میں نہیں پائی جاتی۔تمہارے ایمان کا مصدق یا مکذب قیامت کے دن قرآن ہے اور بجر قرآن کے آسمان کے نیچے اور کوئی کتاب نہیں جو بلا واسطہ قرآن تمہیں ہدایت دے سکے۔خدا نے تم پر بہت احسان کیا ہے جو قرآن جیسی کتاب تمہیں عنایت کی۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ کتاب جو تم پر پڑھی گئی اگر عیسائیوں پر پڑھی جاتی تو وہ ہلاک نہ ہوتے اور یہ نعمت اور ہدایت جو تمہیں دی گئی اگر بجائے تو ریت کے یہودیوں کو دی جاتی تو بعض فرقے انکے قیامت سے منکر نہ ہوتے۔پس اس نعمت کی قدر کرو جو تمہیں دی گئی یہ نہایت پیاری نعمت ہے۔یہ بڑی دولت ہے۔اگر قرآن نہ آتا تو تمام دنیا ایک گندے مضغہ کی طرح تھی۔قرآن وہ کتاب ہے جس کے مقابل پر تمام ہدا یتیں بیچ ہیں۔(کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19۔صفحہ 26-27) پس ہم میں سے ہر ایک کو اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ وہ کس حد تک قرآن سے محبت کرتا ہے اس کے حکموں کو مانتا ہے اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔محبت کے اظہار کے بھی طریقے ہوتے ہیں۔سب سے زیادہ ضروری چیز جو ہر احمدی کو اپنے اوپر فرض کر لینی چاہئے وہ یہ ہے کہ بلا ناغہ کم از کم دو تین رکوع 112)