شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم — Page 45
83 82 پردہ کے پیچھے حضرت عائشہ کی گڑیاں رکھی تھیں پردہ ہٹا تو وہ نظر آنے لگیں۔آنحضرت ملالہ نے پوچھا عائشہ یہ کیا ہے۔انہوں نے جواب دیا کہ میری گڑیاں ہیں۔حضور کی نظر پڑی تو دیکھا کہ ان گڑیوں کے درمیان میں ایک گھوڑا کھڑا ہے جس کے چڑے کے پر ہیں۔آپ نے فرمایا مجھے ان گڑیوں کے درمیان کیا نظر آ رہا ہے۔حضرت عائشہ نے جواب دیا کہ گھوڑا ہے۔آپ نے پوچھا( پروں کی طرف اشارہ کر کے ) کہ گھوڑے کے اوپر یہ کیا چیز ہے۔حضرت عائشہ نے جواب دیا کہ پر ہیں۔آپ نے فرمایا بھی تعجب ہے پروں والا گھوڑا ہے۔حضرت عائشہ نے فرمایا کہ آپ نے سنا نہیں کہ حضرت سلیمان کا بھی ایک گھوڑا تھا جس کے بہت سے پر تھے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب میں نے یہ کہا تو حضور بے اختیار ہنس پڑے اور ایسی شگفتہ کھلی ہوئی بنی تھی کہ حضور نے تو دہن مبارک اتنا کھل گیا کہ مجھے حضور کے سامنے کے آخری دانت بھی نظر آنے لگے۔( بخاری کتاب الادب باب اللعب بالبنات) کھیل دکھایا ایک عید کے موقع پر اہل حبشہ مسجد نبوی کے وسیع دالان میں جنگی کرتب دکھا رہے تھے رسول اللہ صل اللہ حضرت عائشہ سے فرماتے ہیں کہ کیا تم بھی یہ کرتب دیکھنا پسند کروگی اور پھر ان کی خواہش پر انہیں اپنے پیچھے کر لیتے ہیں۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں دیر تک آپ کے پیچھے کھڑی رہی اور آپ کے کندھے پر ٹھوڑی رکھے آپ کے رخسار کے ساتھ رخسار ملا کے یہ کھیل دیکھتی رہی۔آپ کو مجھ سہارے کھڑے رہے یہاں تک کہ میں خود تھک گئی۔آپ فرمانے لگے اچھا کافی ہے تو پھر اب گھر چلی جاؤ۔( بخاری کتاب العید بین باب الحراب والدرق يوم العيد ) -34 بچوں پر شفقت حضور بچوں کے ساتھ بہت زیادہ پیار کرتے تھے اور ان کے ساتھ انتہائی حسن خلق سے پیش آتے تھے۔بچوں کے پاس سے گزرتے۔بچوں سے ملتے تو ہمیشہ انہیں سلام کرتے۔حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ کچھ بچے کھیل رہے تھے حضور ان کے پاس سے گزرے تو حضور ان کو پہلے سلام کیا۔( سنن ابی داود کتاب السلام باب فی السلام علی الصبیان ) حضور بچوں سے بہت بے تکلف تھے۔بچوں کو بڑا پیار اور توجہ دیتے۔ان سے ہنسی مذاق کرتے انہیں چھیڑتے۔ان سے دل لگی کرتے۔ان کو بہلاتے۔حضرت جابر بن سمرہ کہتے ہیں کہ میں نے آنحضرت ملالہ کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی۔نماز کے بعد حضور اہل خانہ کی طرف جانے لگے تو میں بھی حضور کے ساتھ چل پڑا۔وہاں پہنچے تو آگے بچے حضور کے استقبال کے لئے کھڑے تھے حضور ان کے پاس رک گئے۔ایک ایک بچے کے کلوں کو حضور نے اپنے ہاتھ سے سہلایا وہ کہتے ہیں کہ میں تو حضور کے ساتھ آیا تھا لیکن حضور نے پھر میرے کلوں کو بھی سہلایا۔جب حضور اپنا ہاتھ میرے کلوں پر پھیر رہے تھے تو مجھے حضور کے ہاتھوں میں ایسی ٹھنڈک اور خوشبو محسوس ہوئی گویا حضور نے انہیں کسی عطار کے تھیلے سے نکالا صحیح مسلم کتاب الفضائل باب طيب رائحة النبي) ہے۔شفقت کا سمندر حضور باہر سے تشریف لاتے بچے آپ کو دیکھ کر آگے بڑھتے آپ ان کو سواری پر آگے www۔alislam۔org