شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم — Page 32
57 56 56 -23 اپنے ہاتھ سے کام کرنا آنحضرت ملالہ کو اللہ تعالیٰ نے کائنات میں بلند ترین مقام عطا فرمایا تھا۔اور آپ کو ایسے خدام بھی بخشے تھے جو آپ کی خدمت پر ہمیشہ کمر بستہ تھے اور آپ کے پسینہ کی جگہ خون بہانے کو تیار تھے مگر اس کے باوجود آپ اپنے لئے عام دنیاوی معاملات میں کوئی امتیازی حیثیت اختیار کرنا پسند نہ فرماتے اور اپنے کام اپنے ہاتھ سے کرنا پسند کرتے تھے۔اور اس میں کوئی عار نہ سمجھتے تھے۔اپنے خادموں کا بوجھ ہلکا کرتے اور انہیں آرام پہنچانے کی اتنی کوشش فرماتے کہ وہ آپ پر جان فدا کرنے کے لئے مستعد رہتے تھے۔امر واقعہ یہ ہے کہ آپ نے عمل کو وقار بخشا اور ہاتھ سے کام کرنے میں عزت کی نوید سنائی۔گھر میں کام حضور اکرم متلاقہ گھر کے جو کام کرتے تھے ان کا نقشہ حضرت عائشہ نے اس طرح کھینچا ہے کہ حضور اپنی جوتی خود مرمت کر لیتے تھے اور اپنا کپڑا اسی لیا کرتے تھے۔(مسند احمد بن جنبل جلد 6 ص121'167) دوسری روایات میں ہے کہ آپ اپنے کپڑے صاف کر لیتے ان کو پیوند لگاتے بکری کا دودھ دوہتے اونٹ باندھتے ان کے آگے چارہ ڈالتے آٹا گوندھتے اور بازار سے سودا سلف لے آتے۔(الشفاء لقاضی عیاض باب تواضعہ ) مزید بیان کیا گیا ہے کہ ڈول مرمت کر لیتے خادم اگر آٹا پیتے ہوئے تھک جاتا تو اس کی مدد کرتے اور بازار سے گھر کا سامان اُٹھا کر لانے میں شرم محسوس نہ کرتے تھے۔( شرح الزرقانی علی المواهب اللدنیہ جلد 4 ص264 اسدالغابہ ) یہ حضور کی عمومی معاشرتی زندگی کا نقشہ ہے جس کی تائید میں صحابہ نے متفرق واقعات بیان کئے ہیں۔چند ایک نمونہ کے طور پر پیش ہیں۔سامان خود اٹھایا صلى الله حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ آنحضرت کے ساتھ بازار گیا جہاں سے حضور نے کچھ شلوار میں خریدیں اور پھر آپ کے ساتھ جو خزانچی تھا اسے فرمایا کہ اس دکاندار کو ان شلواروں کی قیمت ادا کر دو اور ہاں دیکھو پلڑا جھکا کر رکھنا اور ان شلواروں کی قیمت سے زیادہ قیمت دینا۔پھر حضرت ابو ہریرہ نے اس سارے واقعہ کی تفصیل بیان فرمائی اور یہ بھی بتایا کہ جب حضور اس دکان سے واپس جانے لگے تو وہ دکاندار تیزی سے حضور کے ہاتھ کی طرف بوسہ دینے کو بڑھا لیکن حضور نے اپنا ہاتھ پرے کرلیا اور فرمایا دیکھو اس انداز میں تو تعظیم (تم) عجمی لوگ اپنے بادشاہوں کی کرتے ہو اور میں تو بادشاہ نہیں (بادشاہ تو صرف اللہ ہی ہے) میں تو تم جیسا ایک آدمی ہوں۔حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ پھر حضور نے جو شلواریں خریدی تھیں اٹھا لیں میں نے چاہا کہ میں انہیں پکڑ لوں لیکن حضور نے فرمایا نہیں رہنے دو جس کی چیز ہو اس کو خود ہی اٹھانی چاہئے۔الشفالقاضی عیاض۔باب تو اصفہ) www۔alislam۔org