شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم — Page 44
81 08 80 -33 ازواج سے حسن سلوک رحیم و کریم حضرت عائشہ فرمایا کرتی تھیں کہ رسول اللہ مطلقہ کبھی کوئی درشت کلمہ اپنی زبان پر نہ لائے۔نیز فرماتی ہیں کہ آپ تمام لوگوں سے زیادہ نرم خو تھے اور سب سے زیادہ کریم۔عام آدمیوں کی طرح بلا تکلف گھر میں رہنے والئے آپ نے منہ پر کبھی تیوری نہیں چڑھائی ہمیشہ مسکراتے ہی رہتے تھے۔حضرت عائشہ کا یہ بھی بیان ہے کہ اپنی ساری زندگی میں آنحضرت نے اپنے کسی خادم یا بیوی پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔(شمائل الترمذی باب فی خلق رسول اللہ ) حضرت خدیجہ کی یاد حضرت خدیجہ کی زندگی میں بلکہ ان کی وفات کے بعد بھی آپ نے کئی سال تک دوسری بیوی نہیں کی اور ہمیشہ محبت اور وفا کے جذبات کے ساتھ حضرت خدیجہ کا محبت بھرا سلوک یاد کیا۔آپ کی ساری اولاد جو حضرت خدیجہ کے بطن سے تھی اس کی تربیت و پرورش کا خوب لحاظ رکھا۔نہ صرف ان کے حقوق ادا کئے بلکہ خدیجہ کی امانت سمجھ کر ان سے کمال درجہ محبت فرمائی۔حضرت خدیجہ کی بہن ہالہ کی آواز کان میں پڑتے ہی کھڑے ہو کر ان کا استقبال کرتے اور خوش ہو کر فرماتے خدیجہ کی بہن ہالہ آئی ہے۔گھر میں کوئی جانور ذبح ہوتا تو اُس کا گوشت حضرت خدیجہ کی سہیلیوں میں بھجوانے کی تاکید فرماتے۔الغرض آپ خدیجہ کی وفاؤں کے تذکرے کرتے تھکتے نہ تھے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں۔و مجھے کبھی کسی زندہ بیوی کے ساتھ اتنی غیرت نہیں ہوئی جتنی حضرت خدیجہ کے ساتھ ہوئی حالانکہ وہ میری شادی سے تین سال قبل وفات پا چکی تھیں۔کبھی تو میں اُکتا کر کہہ دیتی یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو اتنی اچھی بیویاں عطا فرمائی ہیں اب اس بڑھیا کا ذکر جانے بھی دیں۔آپ فرماتے:۔و نہیں نہیں خدیجہ اس وقت میری سپر بنیں جب میں بے یارو مددگار تھا۔وہ اپنے مال کے ساتھ مجھ پر فدا ہوگئیں۔اور اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے اولا دعطا کی۔انہوں نے اس وقت میری تصدیق کی جب لوگوں نے جھٹلایا۔“ (مسلم کتاب الفضائل۔فضائل خدیجہ۔بخاری کتاب الادب باب حسن العبد من الایمان مسند احمد بن جنبل جلد 6 صفحہ 118) سراپا محبت حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ جب میں بیاہ کر آئی تو میں حضور کے گھر میں بھی گڑیوں سے کھیلا کرتی تھی اور میری سہیلیاں بھی تھیں جو میرے ساتھ مل کر گڑیوں سے کھیلا کرتی تھیں۔جب حضور گھر تشریف لاتے (اور ہم کھیل رہی ہوتیں ) تو میری سہیلیاں حضور کو دیکھ کر ادھر ادھر کھسک جاتیں لیکن حضور ان سب کو اکٹھا کر کے میرے پاس لے آتے اور پھر وہ میرے ساتھ مل کر کھیلتی رہتیں۔( صحیح بخاری کتاب الادب باب الانبساط الی الناس) حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ جب حضور جنگ تبوک سے واپس آئے یا شاید یہ اس وقت کی بات ہے جب حضور خیبر سے واپس آئے تو میرے پاس تشریف لائے۔ان کے صحن میں ایک جگہ پر دہ لٹک رہا تھا ہوا کا ایک جھونکا آیا تو اس پردہ کا ایک سراہٹ گیا۔اس www۔alislam۔org