شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم — Page 43
79 78 -32 خدمت والدین آنحضرت ملالہ کے والد محترم تو آپ کی پیدائش سے پہلے ہی فوت ہو چکے تھے۔اور آپ چھ سال کے تھے کہ آپ کی والدہ محترمہ بھی رحلت فرما گئیں۔اس طرح حضور ملیاللہ کو تقدیر الہی کے ماتحت والدین کی براہ راست خدمت کا موقع تو نہیں ملا مگر ان کے لئے آپ کے دل میں محبت کے بے پناہ جذبات تھے جن کے ماتحت آپ مسلسل درد سے ان کے لئے دعا کرتے رہے۔مگر ان کی خدمت کے جذبہ کی تسکین آپ نے رضاعی والدین کی خدمت کر کے حاصل کی۔اور یہ نمونہ چھوڑا کہ اگر اصلی والدین زندہ ہوتے تو آپ ان کی خدمت میں کیا کیا کسر نہ اٹھا رکھتے۔رضاعی ماں کی خدمت حضرت اسامہ بیان کرتے ہیں کہ:۔آنحضرت ملالہ کی رضاعی والدہ حلیمہ مکہ میں آئیں اور حضور سے مل کر قحط اور مویشیوں کی ہلاکت کا ذکر کیا۔حضور ملالہ نے حضرت خدیجہ سے مشورہ کیا اور رضاعی ماں کو چالیس بکریاں اور ایک اونٹ مال سے لدا ہوا دیا۔(طبقات ابن سعد جلد اوّل صفحہ 113 بیروت۔1960ء) قیدیوں کی رہائی جنگ حنین میں بنو ہوازن کے قریباً چھ ہزار قیدی مسلمانوں کے ہاتھ آئے۔ان میں حضرت حلیمہ کے قبیلہ والے اور ان کے رشتہ دار بھی تھے جو وفد کی شکل میں حضور صل اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضور کی رضاعت کا حوالہ دے کر آزادی کی درخواست کی۔آنحضرت صل اللہ نے انصار اور مہاجرین سے مشورہ کے بعد سب کو رہا کر دیا۔طبقات ابن سعد جلد اول صفحہ 114 بیروت 1960ء) بہت تعظیم کی حضرت ابوالطفیل بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے بعد حضور جعرانہ مقام پر گوشت تقسیم فرمارہے تھے کہ ایک عورت آئی اور حضور کے قریب چلی گئی حضور نے اس کی بہت تعظیم کی اور اس کے لئے اپنی چادر بچھا دی۔میں نے پوچھا یہ عورت کون ہے تو لوگوں نے کہا یہ حضور کی رضاعی (سنن ابوداؤ د کتاب الادب باب برالوالدین) والدہ ہیں۔رضاعی والد ایک بار حضور " تشریف فرما تھے کہ آپ کے رضاعی والد آئے۔حضور نے ان کے لئے چادر کا ایک پلو بچھا دیا۔پھر آپ کی رضاعی ماں آئیں تو آپ نے دوسرا پلو بچھا دیا۔پھر آپ کے رضاعی بھائی آئے تو آپ اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کو اپنے سامنے بٹھالیا۔☆☆☆ (سنن ابوداؤ د کتاب الادب باب بر الوالدین) www۔alislam۔org