شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم — Page 30
53 52 -21 حضور صفائی اور پاکیزگی منہ کی صفائی ر ملکانہ مسواک کے سختی سے پابند تھے۔وضو کے وقت بھی مسواک کرتے اور رات کو جب تہجد کے لئے اٹھتے تب بھی مسواک سے دانت ضرور صاف کرتے۔( صحیح بخاری کتاب الجمعۃ باب السواک یوم الجمعة ) آپ کی زندگی کے آخری لمحات میں بھی آپ کو مسواک کا خیال تھا۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضور کی وفات سے کچھ دیر قبل میرا بھائی عبدالرحمان میرے حجرے میں داخل ہوا۔اس کے ہاتھ میں مسواک تھی۔میں نے اپنے سینے کے ساتھ حضور ملالہ کو سہارا دیا ہواتھا میری نظر حضور ملاقہ پر پڑی میں نے دیکھا کہ آپ تعبد الرحمان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔مجھے خیال آیا کہ حضور کو مسواک کرنا بہت پسند تھا اور صحت کے زمانے میں اس کا بہت اہتمام کرتے تھے جبکہ بیماری میں ایسا نہ کر سکتے تھے۔شاید اس وقت مسواک کرنا چاہتے ہیں۔اس لئے میں نے حضور مقالہ سے پوچھا عبد الرحمن سے مسواک لے کر آپ کو دوں؟ میرے سوال پر حضور نے سر سے اشارہ کیا ہاں۔اس پر میں نے عبدالرحمان سے مسواک لے کر حضور مقالہ کو دے دی حضور مقالہ نے مسواک منہ میں رکھی لیکن ضعف بہت تھا۔دانتوں سے چبانے کی طاقت نہ تھی۔میں نے پوچھا۔” میں مسواک آپ کے لئے اپنے دانتوں سے چبا کر نرم کر دوں؟ آپ نے سر سے اشارہ کیا کہ ہاں۔پھر میں نے حضور سے مسواک پکڑی اور اس کو اپنے دانتوں میں خوب چبا کر آپ کے لئے بالکل نرم اور ملائم کر دیا۔اور حضور اپنے دانتوں پر اچھی طرح پھیرا۔( بخاری کتاب المغازی باب مرض النبی و وفاتته ) ملالہ نے اسے خوشبو کی پسندیدگی آنحضرت ملالہ خوشبو کو بہت پسند فرماتے تھے آپ نے دنیا میں اپنی پسندیدہ ترین چیزوں میں سے ایک خوشبو کو قرار دیا ہے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 3 ص 128) مسجدوں کے آداب فرمایا:۔مساجد کی صفائی اور نظافت کے متعلق تفصیلی تعلیم دیتے ہوئے رسول اللہ صلى الله اپنی مساجد اپنے ناسمجھ بچوں، مجانین ( دیوانے ، مجنوں) خرید وفروخت لڑائی جھگڑے اور شور سے محفوظ رکھو۔مسجد کے دروازوں کے باہر طہارت خانے بناؤ اور جمعہ وغیرہ کے موقع پر مساجد میں خوشبو کی دھونی دیا کرو۔“ (سنن ابن ماجہ کتاب المساجد باب ما يكره في المساجد ) www۔alislam۔org