شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم — Page 13
19 18 دیکھتا کہ آپ سجدہ میں ہیں اور آپ کی زبان پر یاحی یا قیوم کے الفاظ جاری ہیں۔حضرت ابوبکر جوش فدائیت میں آپ کی اس حالت کو دیکھ کر بے چین ہو جاتے اور عرض کرتے یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں آپ گھبرائیں نہیں۔اللہ ضرور اپنے وعدے پورے کرے گا مگر اس مقولہ کے مطابق کہ ہر کہ عارف تر است ترساں تر برابر دعا وگریہ وزاری میں مصروف رہے۔آپ کے دل میں خشیت الہی کا یہ گہرا احساس مضمر تھا کہیں خدا کے وعدوں میں کوئی ایسا پہلو مخفی نہ ہو جس کے عدم علم سے تقدیر بدل جائے۔( صحیح بخاری کتاب الجہاد۔باب في درع النبی) -5 نماز با جماعت دل بایار حضرت اسود بن یزید بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک دن حضرت عائشہ صدیقہ سے پوچھا کہ آنحضرت مقالہ گھر میں کیا کیا کرتے تھے ؟ حضرت عائشہ نے کہا۔آپ کام کاج میں گھر والوں کا ہاتھ بٹاتے اور جب نماز کا وقت ہوتا تو باہر نماز کے لئے چلے جاتے۔( بخاری کتاب الاذان باب ما کان فی حاجتہ اهله ) قیام نماز حضرت مغیرہ بن شعبہ کہتے ہیں کہ ایک شام مجھے نبی کریم متلاقہ کا مہمان ہونے کی سعادت حاصل ہوئی۔حضور نے میرے لئے گوشت کا ایک ٹکڑا بھنوایا پھر حضور چھری کے ساتھ گوشت کے ٹکڑے کاٹ کر مجھے دینے لگے۔ہم کھانا کھا رہے تھے کہ حضرت بلال نے آ کر نماز کی اطلاع دی۔حضور نے چھری ہاتھ سے رکھ دی اور فرمایا اللہ بلال کا بھلا کرے اس کو کیا جلدی ہے ( کچھ انتظار کیا ہوتا ) اور نماز کے لئے تشریف لے گئے۔(ابوداؤد کتاب الطہارۃ باب ترک الوضوء ) آنکھوں کی ٹھنڈک حضرت علیؓ نے حضور کی طبیعت کے بارہ میں سوال کیا تو حضور نے انہیں ایک لمبا جواب دیا جس میں اللہ سے اپنی محبت کی کیفیات کا ذکر تھا اور جواب کے آخر میں فرمایا:۔وَقُرَّةُ عَيْنِي www۔alislam۔org