شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم — Page 50
93 92 -38 غریبوں اور کمزوروں سے حسن سلوک اف تک نہیں کیا حضرت انس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے دس سال حضور کی خدمت کی توفیق ملی۔جب میں حضور کی خدمت میں آیا میں بچہ تھا اور میری ہر بات ایسی نہیں ہوتی تھی جیسے میرے صاحب یعنی آنحضرت مطالعہ چاہتے تھے کہ ہو لیکن حضور نے مجھے ایسی باتوں میں کبھی اف تک نہیں کہا اور مجھے کبھی نہیں کہا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا اور نہ بھی یہ کہا کہ یہ کام کیوں نہیں کیا۔حضرت انس کہتے تھے کہ حسن اخلاق میں آنحضرت صلالہ تمام انسانوں سے بڑھ کر تھے۔ایک دن تو ایسا ہوا کہ حضور نے مجھے کسی کام کو جانے کے لئے کہا تو میں نے صاف جواب دیا کہ اللہ کی قسم میں نہیں جاؤں گا حالانکہ میرے دل میں یہی تھا کہ وہ کام کر آؤں گا جو حضور نے مجھے کہا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ پھر میں گھر سے باہر آیا اور حضور کے کام کے لئے چل پڑا) لیکن راستہ میں بازار میں میرا گزر کچھ بچوں کے پاس سے ہوا جو کھیل رہے تھے ( میں بھی ان کے ساتھ کھیلنے لگا ) اچانک وہاں حضور ” تشریف لے آئے اور میری گدی کو پیچھے سے پکڑا میں نے پیچھے مڑکر دیکھا حضور مسکرا رہے تھے۔پھر مجھے فرمایا انہیں ( پیار سے نام لیا ہے ) جہاں کام کے لئے بھیجا تھا وہاں چلے جاؤ نا۔میں نے عرض کیا ہاں حضور جاتا ہوں۔(سنن ابوداؤ د کتاب الادب باب فی الحکم ) خدا تیراخریدار ہے حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ زاہر بن حرام نامی ایک دیہاتی اکثر آنحضرت ملاقہ کے لئے گاؤں کی چیزیں تحفہ کے طور پر لایا کرتا تھا اور آپ سبھی اُس کی واپسی پر شہر کی کوئی نہ کوئی سوغات ضرور عنایت کیا کرتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ آپ نے فرمایا:۔زاہر ہمارے لئے دیہات ہے اور ہم اس کے لئے شہر ہیں۔حضور " کو زاہر سے بے حد انس تھا۔زاہر کی شکل و صورت اچھی نہ تھی۔ایک دن وہ اپنا سودا بیچ رہا تھا کہ حضور ملانہ پیچھے سے آئے اور بے خبری میں اس کی آنکھیں موند لیں۔اس نے کہا کون ہے مجھے چھوڑ دے۔مگر جب مڑ کر دیکھا تو آنحضرت ملالہ تھے جس پر وہ اپنی کمر حضور کے سینہ مبارک پر ملنے لگا۔آپ نے فرمایا یہ غلام کون خریدتا ہے۔زاہر کہنے لگا یا رسول اللہ ! تب تو آپ مجھے ناقص مال پائیں گے۔آپ نے فرمایا مگر اللہ کے نزدیک تو تو ناقص مال نہیں ہے۔☆☆☆ (شمائل الترمذی باب فی مزاح رسول الله ) www۔alislam۔org