شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم

by Other Authors

Page 46 of 54

شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم — Page 46

85 84 پیچھے بٹھا لیتے ایک بار ایک بدو یعنی دیہات کا رہنے والا آیا۔اس نے دیکھا آپ بچوں سے پیار کر رہے ہیں۔اس نے عرض کی حضور میرے تو اتنے بچے ہیں۔میں نے کبھی کسی سے پیار نہیں کیا۔آپ نے فرمایا اگر خدا نے تمہارے دل سے شفقت لے لی ہو تو میں کیا کرسکتا ہوں۔پھر فرمایا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا۔خدا بھی اس پر رحم نہیں کرتا۔بچوں سے دل لگی الادب المفرد للبخاری باب قبلۃ الصبیان) حضرت انس کہتے ہیں کہ آنحضرت ملالہ کا ہمارے گھر آنا جانا تھا۔میرا ایک چھوٹا بھائی تھا جس کو ابو عمیر کہہ کر پکارتے تھے۔اس کی ایک سرخ چونچ والی بلبل تھی جس سے وہ کھیلا کرتا تھا وہ مرگئی۔اس کے مرنے کے بعد حضور ہمارے ہاں آئے تو عمیر کو افسردہ دیکھا پوچھا اس کو کیا ہوگیا ہے۔چپ چپ ہے۔گھر والوں نے عرض کیا کہ اس کی تغیر یعنی بلبل مرگئی ہے۔اس پر آپ نے ابو عمیر کو بہلانے کے لئے اس کو یہ کہہ کر چھیڑنا شروع کیا کہ یا ابا عمیر مافعل الفغیر کہ اے ابو عمیر تغیر تجھ سے کیا کر گئی۔(سنن ابی داؤ د کتاب الادب باب فی الرجل تیکنی ) شفیق باپ آنحضرت ملالہ کے صحابی حضرت ابو قتادہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم ظہر یا عصر کی نماز کے لئے آنحضرت ملالہ کا انتظار مسجد نبوی میں کر رہے تھے۔حضرت بلال محضور کو نماز کی اطلاع دے کر نماز کے لئے آنے کے لئے عرض کر چکے تھے لیکن دیر ہورہی تھی اور ہم انتظار میں بیٹھے تھے کہ حضور تشریف لائے اس طرح کہ حضور نے ابو العاص سے حضرت زینب کی بچی امامہ کو اپنی گردن پر اٹھایا ہوا تھا۔حضور اسی طرح امامہ کو اٹھائے ہوئے آگے بڑھے اور اپنی نماز کی جگہ پہنچ کر کھڑے ہو گئے۔ہم بھی حضور کے پیچھے کھڑے ہو گئے لیکن امامہ اسی طرح حضور کی گردن پر بیٹھی رہی اور اسی حالت میں حضور نے تکبیر کہی اور ہم نے بھی تکبیر کہی۔حضور نے امامہ کو اٹھائے ہوئے قیام کیا اور جب رکوع کرنے لگے تو انہیں گردن سے اتار کر نیچے بٹھا دیا پھر رکوع کیا اور سجدے کئے۔جب سجدوں سے فارغ ہو کر قیام کے لئے کھڑے ہونے لگے تو امامہ کو اٹھا کر پھر اپنی گردن پر بٹھالیا اور حضور ساری نماز میں اسی طرح کرتے رہے۔رکوع کرنے سے پہلے اتار دیتے اور سجدوں کے بعد قیام کے وقت اٹھالیتے یہاں تک کہ حضور نماز سے فارغ (سنن ابوداؤد کتاب الصلوۃ باب العمل في الصلوة ) رحم کا آسمانی جذبہ ہو گئے۔حضرت اسامہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضور کی صاحبزادی حضرت زینب نے حضور گوکہلا بھیجا کہ میرابیٹا آخری سانس لے رہا ہے تشریف لائیں۔حضور نے ان کو سلام کہلایا اور کہلا بھیجا کہ صبر کرو جو کچھ اللہ دیتا ہے یا واپس لیتا ہے وہ سب اللہ کا ہی ہے۔ہر چیز اس کے ہاں ایک معین مدت کے لئے ہے۔حصول ثواب کے لئے صبر سے کام لو ( مجھے احساس ہوتا ہے کہ حضور کے انکار کی وجہ یہ تھی کہ حضور بچے کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے تھے ) بہر حال حضرت زینب نے دوبارہ پیغام کہلا بھیجا اور قسم دی کہ حضور ضرور تشریف لے آئیں تب حضور" مجلس سے اٹھ کھڑے ہوئے اور حضور کے ساتھ اور صحابہ کے علاوہ سعد بن عبادہ معاذ بن جبل ابی بن کعب زید بن ثابت بھی اٹھے۔جب آپ حضرت زینب کے ہاں پہنچے تو بچہ حضور کی گود میں دیا گیا۔اس کا سانس اکھڑا ہوا تھا اور سانس میں ایسی آواز پیدا ہورہی تھی جیسے پانی کی بھری مشک سے پانی نکلے تو پیدا ہوتی ہے۔حضور نے بچے کو گود میں لے لیا۔اس کی طرف دیکھا بے اختیار آنسو بہہ پڑے۔سعد نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ یہ کیا ہے۔آپ کیوں رونے لگے۔آپ نے جواب دیا کہ یہ وہ www۔alislam۔org