شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم

by Other Authors

Page 42 of 54

شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم — Page 42

77 76 فرمایا کہ کیا تہجد کی نماز نہیں پڑھا کرتے۔میں نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ ہماری جانیں تو اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں جب وہ اٹھانا چاہے اٹھا دیتا ہے۔آپ اس بات کو سن کر لوٹ گئے اور آپ اپنی ران پر ہاتھ مار کر کہہ رہے تھے کہ انسان تو اکثر باتوں میں بحث کرنے لگ پڑتا ہے۔( صحیح بخاری کتاب التهجد باب تحريض النبي) حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں:۔اللہ اللہ کس لطیف طرز سے حضرت علی کو آپ نے سمجھایا کہ آپ کو یہ جواب نہیں دینا چاہئے تھا۔کوئی اور ہوتا تو اول تو بحث شروع کر دیتا کہ میری پوزیشن اور رتبہ کو دیکھو۔پھر اپنے جواب کو دیکھو کہ کیا تمہیں یہ حق پہنچتا ہے کہ اس طرح میری بات کو رد کر دو۔یہ نہیں تو کم سے کم بحث شروع کر دیتا کہ یہ تمہارا دعویٰ غلط ہے کہ انسان مجبور ہے اور اس کے تمام افعال اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں وہ جس طرح چاہے کرواتا ہے چاہے نماز کی توفیق دے چاہے نہ دے اور کہتا کہ جبر کا مسئلہ قرآن شریف کے خلاف ہے لیکن آپ نے ان دونوں طریق میں سے کوئی بھی اختیار نہ کیا اور نہ تو ان پر ناراض ہوئے نہ بحث کر کے حضرت علی کو ان کے قول کی غلطی پر آگاہ کیا بلکہ ایک طرف ہو کر ان کے اس جواب پر اس طرح اظہار حیرت کر دیا کہ انسان بھی عجیب ہے کہ ہر بات میں کوئی نہ کوئی پہلو اپنے موافق نکال ہی لیتا ہے اور بحث شروع کر دیتا ہے۔“ نرمی کے ساتھ (سيرة النبي ص 142) معاویہ بن حکم سلمی کہتے ہیں کہ جب میں حضور کی خدمت میں (قبول اسلام کے لئے ) حضور کی خدمت حاضر ہوا مجھے اسلام کی بہت سی باتیں سکھائی گئیں اور ایک بات جو مجھے سکھائی گئی وہ یہ تھی کہ حضور نے مجھے فرمایا کہ جب چھینک آئے تو الحمد للہ کہو اور جب کوئی دوسرا چھینک لے کر الحمد للہ کہے تو تم یرحمک اللہ کہا کرو۔معاویہ کہتے ہیں کہ (ایک دن) میں حضور کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا کہ ایک شخص نے چھینک لی اور الحمد للہ کہا تو میں نے نماز ہی میں یرحمک اللہ کہ دیا اور بڑی اونچی آواز سے کہا۔دوسرے نمازی (میری آواز سن کر ) مجھے گھورنے لگے جیسے اپنی نظروں سے مجھ پر تیر برسا رہے ہوں مجھے یہ بہت برا لگا اور میں نماز ہی میں بولا کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے مجھے یوں کیوں گھورتے ہو۔میرا یہ کہنا تھا کہ نمازی سبحان اللہ سبحان اللہ کہنے لگے اور ساتھ ہی وہ مجھے چپ کراتے تو میں چپ ہو گیا جب حضور نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا نماز میں کون بولتا تھا تو آپ سے (میری طرف اشارہ کر کے ) عرض کیا گیا کہ یہ بدو۔اس پر حضور نے مجھے اپنے قریب بلایا اور میرے ماں باپ آپ پر قربان حضور نے مجھے مارا نہ جھڑ کا نہ گالی دی بس یہ فرمایا ”نماز قرآن کی تلاوت اور اللہ جل شانہ کے ذکر کے لئے ہوتی ہے اس لئے جب تم نماز پڑھو تو تمہاری حالت بھی اس کے مطابق ہونی چاہئے معاویہ کہتے ہیں کہ میں نے آج تک حضور سے بڑھ کر نرمی کے ساتھ علم سکھانے والا کوئی اور نہیں دیکھا۔(سنن ابوداود کتاب الصلوۃ باب تشميت العاطس) www۔alislam۔org