شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم — Page 40
73 -30 72 مطہر مذاق مزاح اور مذاق میں بسا اوقات جھوٹ یا کم از کم مبالغہ آمیزی کا معمولی دخل ضرور ہوتا ہے۔مگر ہمارے آقا و مولیٰ اس کیفیت میں بھی سچائی کے نقیب اور پیغمبر تھے۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ نے حضور سے عرض کی۔یا رسول اللہ آپ بھی ہم سے مذاق اور مزاح فرماتے ہیں۔حضور نے فرمایا۔میں سچ کے سوا اور کچھ نہیں کہتا“ ایک دفعہ ایک شخص حضور ملاقہ کے پاس آیا اور آپ سے اپنے لئے سواری مانگی۔حضور نے فرمایا ٹھیک ہے میں تمہیں اونٹنی کا بچہ دے دوں گا۔اس نے کہا یا رسول اللہ میں اونٹنی کے بچہ کو کیا کروں گا۔آپ نے فرمایا۔کوئی اونٹ ایسا بھی ہے جو اونٹنی کا بچہ نہ ہو۔“ (سنن ترمذی ابواب البر والصلۃ باب فی المزاح) ایک بوڑھی عورت نے عرض کیا کہ حضور" کیا میں جنت میں جاؤں گی۔آپ نے فرمایا کہ جنت میں تو صرف جوان عورتیں جائیں گی وہ افسردہ ہوگئی تو فرمایا۔"جنت میں بوڑھے بھی جوان کر کے لیجائے جائینگے۔“ حضور الشمائل الحمد يه لتر مذی صفتہ مزاح رسول الله ) کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئی آپ نے اس کے شوہر کی بابت پوچھا تو اس نے نام بتایا۔جس پر آپ نے فرمایا۔وہی جس کی آنکھوں میں سفیدی ہے جو نبی وہ عورت گھر پہنچی تو اپنے شوہر کی آنکھوں کو غور سے دیکھنے لگی۔اس کے خاوند نے کہا۔تجھے کیا ہو گیا ہے۔عورت نے جواب دیا کہ رسول کریم متقاطقہ نے مجھے بتایا ہے کہ تیری آنکھوں میں سفیدی ہے۔یہ سن کر اس نے کہا میری آنکھوں میں سفیدی سیاہی سے زیادہ نہیں ہے۔(شرف النبی از علامہ ابوسعید نیشا پوری مترجم ص 109) وسعت حوصلہ اسے دے دو حضرت انس فرماتے ہیں کہ میں ایک دفعہ آنحضرت ملاقہ کے ساتھ چل رہا تھا اور آپ نے نجران کی بنی ہوئی چادر اوڑھی ہوئی تھی جس کے کنارے بہت موٹے تھے کہ اتنے میں ایک اعرابی آپ کے قریب آیا اور آپ کو بڑی سختی سے کھینچنے لگا۔یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ اس کے سختی سے کھینچنے کی وجہ سے چادر کی رگڑ کے ساتھ آپ کی گردن پر خراشیں پڑ گئیں۔اس کے بعد اس نے کہا کہ آپ کے پاس جو مال ہے اس میں سے کچھ مجھے بھی دلوائیں آپ نے مڑ کر اس کی طرف دیکھا اور مسکرائے اور فرمایا کہ اسے کچھ دے دو۔( صحیح بخاری کتاب الجہاد باب کان النبی یعطی ) پا کے دکھ آرام دو حضرت انس کہتے ہیں کہ میں ایک دفعہ حضور کے ساتھ ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا۔حضور ایک ایسی چادر زیب تن کئے ہوئے تھے جس کا حاشیہ سخت اور کھردرا تھا۔اتنے میں ایک بدواس مجلس میں آیا سیدھا حضور کی طرف بڑھا اور حضور کی چادر کو پکڑ کر بڑے زور سے اپنی طرف کھینچا اس قدر زور سے کھینچا کہ حضور کے کاندھوں کے کنارہ پر اس چادر کے حاشیہ کے نشان پڑ گئے۔پھر حضور سے مخاطب ہوا اور کہنے لگا کہ اے محمد میرے ان دو اونٹوں پر اللہ کے اس مال میں سے جو آپ کے پاس ہے کچھ میرے لئے لا دیجئے کیونکہ جو مال ان اونٹوں پر لد وائیں گے وہ نہ آپ کا ہے نہ آپ کے والد کا وہ تو صرف اللہ کا مال ہے۔حضور نے اس بدو کی بات کو سنا اور www۔alislam۔org