شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم

by Other Authors

Page 33 of 54

شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم — Page 33

59 58 -24 اجتماعی کاموں میں شرکت حضور کی منکسرانہ اور متواضع زندگی کا ایک پہلو اجتماعی کاموں میں شرکت ہے۔آنحضرت ملالہ نے قومی محنت کے امور میں براہ راست شریک ہو کر قومی خدمت کو ایک نیا شرف اور نئی عظمت عطا فرمائی۔صلى الله تعمیر کعبہ کے بچپن میں کعبہ کی تعمیر ہورہی تھی اس میں حضور نے بھی بڑوں کے شانہ بشانہ حصہ لیا اور اور پتھر اٹھا کر لاتے رہے۔( صحیح بخاری باب بنیان الكعبة ) قریش نے آپ کی جوانی کے زمانہ میں جب کعبہ کو گرا کر از سرنو تعمیر کیا۔آپ نے بھی اس میں حصہ لیا۔اور حجر اسود کی تنصیب کے وقت قریش کے جھگڑے کو حکم بن کر عمدگی سے حل فرمایا۔سیرت ابن ہشام جلد 1 ص 209 مطبع حجازی قاہرہ 1937 حدیث بنیان الکعبة ) تعمیر مسجد قبا مدینے سے تین میل کے فاصلہ پر ایک بستی تھی جس کا نام قبا تھا۔رسول کریم ملالہ کی ہجرت سے قبل کئی مہاجرین مکہ سے آکر اس بستی میں ٹھہر گئے تھے۔حضور مقالہ ملالہ نے جب خود ہجرت فرمائی تو مدینہ جانے سے قبل اس بستی میں قیام فرمایا۔یہاں آپ نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ ایک مسجد کی بنیاد ڈالی جسے مسجد قبا کہتے ہیں۔مسجد کی تعمیر میں آپ نے خود صحابہ کے ساتھ مزدوروں کی طرح حصہ لیا۔روایت ہے کہ حضور صل اللہ نے صحابہ سے فرمایا قریب کی پتھریلی زمین سے پتھر جمع کر کے لاؤ پتھر جمع ہو گئے تو حضور نے خود قبلہ رخ ایک خط کھینچا۔اور خود اس پر پہلا پتھر رکھا۔پھر بعض بزرگ صحابہ سے فرمایا اس کے ساتھ ایک ایک پتھر رکھو۔پھر عام اعلان فرمایا کہ ہر شخص ایک ایک پتھر رکھے۔صحابہ بیان کرتے ہیں کہ حضور خود بھاری پتھر اٹھا کر لاتے یہاں تک کہ جسم مبارک جھک جاتا۔پیٹ پر مٹی نظر آتی صحابہ عرض کرتے۔ہمارے ماں باپ آپ پر فدا ہوں آپ یہ پتھر چھوڑ دیں ہم اٹھا لیں گے مگر آپ فرماتے نہیں تم ایسا ہی اور پتھر اٹھالا ؤ۔موقع پر ہوا۔الحجم الكبير للطبرانی جلد 24 ص 318 مکتبہ ابن تیمیة قاہر) جنگ خندق متلاقہ کے زمانے میں سب سے اہم اور سب سے مشکل وقار عمل جنگ خندق کے شوال 5ھ میں کفار مکہ کی سرکردگی میں پندرہ ہزار کا لشکر مدینہ پرحملہ آور ہوا۔جس کی روک تھام کے لئے مدینہ کے غیر محفوظ حصہ کے سامنے خندق کھودنے کا فیصلہ ہوا۔ملالہ نے خود اپنی نگرانی میں موقع پر نشان لگا کر پندرہ پندرہ فٹ کے ٹکڑوں کو دس حضور دس صحابہ کے سپر د فر ما دیا۔فتح الباری شرح بخاری جلد 7 ص 397 از ابن حجر عسقلانی دار نشر الکتب الاسلامیہ لاہور 1981ء) ان ٹولیوں نے اپنے کام کی تقسیم اس طرح کی کہ کچھ آدمی کھدائی کرتے تھے اور کچھ کھدی ہوئی مٹی اور پتھروں کو ٹوکریوں میں بھر کر کندھوں پر لاد کر باہر پھینکتے تھے۔حضور ملاقه بیشتر وقت خندق کے پاس گزارتے اور بسا اوقات خود بھی صحابہ کے ساتھ مل کر کھدائی اور مٹی اٹھانے کا کام کرتے تھے۔اور ان کی طبائع میں شگفتگی قائم رکھنے کے لئے بعض www۔alislam۔org