شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم — Page 26
45 44 جارہے ہیں۔اس پر انہوں نے ہم سے یہ عہد لے کر چھوڑا کہ ہم مدینہ چلے جائیں گے اور کفار کے خلاف لڑائی میں شامل نہ ہوں گے۔یہ عہد کو جارحانہ حملہ آوروں نے جبرا لیا تھا اور کسی معروف ضابطہ اخلاق میں اس کا ایفاء لازمی نہیں تھا مگر حضور ملالہ کو عہد کا اتنا پاس تھا کہ ایسے نازک وقت میں جبکہ ایک ایک سپاہی کی ضرورت تھی آپ نے فرمایا تو پھر تم جاؤ اور اپنے عہد کو پورا کرو۔ہم اللہ سے ہی مدد چاہتے ہیں اور اسی کی نصرت پر ہمارا بھروسہ ہے۔(صحیح مسلم کتاب الجہاد باب الوفاء بالعهد ) صبر کرو ہم بد عہدی نہیں کر سکتے صلح حدیبیہ میں ایک شرط یہ تھی کہ مکہ سے جو مسلمان ہو کر مدینہ چلا جائے گا وہ اہل مکہ کے مطالبہ پر واپس کر دیا جائے گا۔عین اس وقت جب معاہدہ کی شرطیں زیر تحریر تھیں اور آخری دستخط نہ ہوئے تھے حضرت ابو جندل پابہ زنجیر اہل مکہ کی قید سے بھاگ کر آئے اور رسول اللہ سے فریادی ہوئے۔تمام مسلمان اس درد انگیز منظر کو دیکھ کر تڑپ اٹھے لیکن آنحضرت ملالہ نے باطمینان تمام ان کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا اے ابو جندل! صبر کرو ہم بدعہدی نہیں کر سکتے۔اللہ تعالیٰ عنقریب تمہارے لئے کوئی راستہ نکالے گا۔“ ( صحیح بخاری کتاب الشروط باب الشروط فی الجہاد ) میں تین دن سے انتظار کر رہا ہوں حضرت عبداللہ بن ابی الحمساء بیان کرتے ہیں کہ بعثت سے پہلے میں نے ایک دفعہ آنحضرت ملالہ کے ساتھ کوئی کاروباری معاملہ کیا اور میرے ذمہ آپ کا کچھ حساب باقی رہ گیا جس پر میں نے آپ سے کہا کہ آپ کہیں ٹھہریں میں ابھی آتا ہوں۔مگر مجھے بھول گیا اور تین دن کے بعد یاد آیا۔اس وقت جب میں اس طرف گیا تو حضور متعلقہ وہیں کھڑے تھے مگر آپ نے سوائے اس کے مجھے کچھ نہیں کہا کہ۔و تم نے مجھے تکلیف میں ڈالا ہے۔میں یہاں تین دن سے تمہارے انتظار میں ہوں۔“ (ابوداؤ د کتاب الادب باب في العدة) اس سے مراد یہ تو نہیں ہو سکتی کہ آپ مسلسل تین دن تک اسی جگہ ٹھہرے رہے بلکہ منشاء معلوم ہوتا ہے کہ آپ مناسب اوقات میں کئی دفعہ اس جگہ پرعبداللہ کا انتظار کرتے رہے ہوں گے تا کہ عبداللہ کو اپنا وعدہ پورا کرنے اور آپ کو تلاش کرنے میں دقت نہ ہو۔www۔alislam۔org