شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم

by Other Authors

Page 25 of 54

شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم — Page 25

43 42 -17 حضور صلى الله ایفائے عہد حق دلوایا نے اپنی جوانی میں معاہدہ حلف الفضول میں شرکت کی تھی جس کے سب شرکاء نے وعدہ کیا کہ ہم ہمیشہ ظلم روکیں گے اور مظلوم کی مدد کریں گے۔اس عہد کی حضور نے اس وقت بھی پاسداری کی۔بلکہ سب سے بڑھ کر کی اور حقیقت میں ایفائے عہد کے شاندار نظارے بعثت کے بعد دکھلائے جب شدید دشمنوں اور ظالموں کے مقابل پر حضور نے اپنی جان اور عزت کی پروانہ کرتے ہوئے معاہدہ حلف الفضول کے تحت مظلوموں کا حق دلوانے کی بھر پورسعی کی۔اس کی تائید میں یہ واقعہ ملاحظہ فرمائیے۔اراش قبیلہ کا ایک فرد مکہ میں اونٹ بیچنے کے لئے لایا۔ابوجہل نے اس سے ایک اونٹ خریدا اور رقم ادا کرنے کے لئے ٹال مٹول کرنے لگا۔وہ شخص دہائی دیتا ہوا قریش کے سرداروں کی مجلس میں پہنچ گیا۔اور بلند آواز سے کہنے لگا۔اے سردار مجھے غریب مسافر کا حق ابوالحکم نے مارلیا ہے۔مجھے اونٹ کی قیمت دلا دو۔اس وقت حضور مقالہ مسجد حرام کے ایک گوشے میں تشریف فرما تھے۔اور وہ سب سردار جانتے تھے کہ ابو جہل حضور مقالہ سے سخت دشمنی رکھتا ہے۔انہوں نے اس شخص سے استہزاء کرتے ہوئے حضور کی طرف اشارہ کیا اور کہا یہ شخص تجھے حق دلا سکتا ہے۔وہ شخص حضور کے پاس پہنچا اور اپنی داستان سنائی۔حضور اس کی بات سن کر اٹھ کھڑے ہوئے اور ابو جہل کی طرف جانے لگے۔قریشی سرداروں نے ایک شخص سے کہا کہ تو ان کے پیچھے جا اور دیکھ کیا ہوتا ہے۔حضور اس شخص کے ساتھ ابو جہل کے دروازہ پر پہنچے۔دستک دی۔اس نے پوچھا کون ہے فرمایا میں محمد ہوں تم باہر آؤ۔ابو جہل باہر آیا تو فرمایا اس شخص کا حق ادا کرو۔وہ کہنے لگا آپ یہیں ٹھہریں میں ابھی اس کی رقم لے کر آتا ہوں۔چناچہ وہ گھر گیا اور رقم لے آیا۔وہ شخص واپس جاتے ہوئے اہل قریش کی اسی مجلس کے پاس ٹھہرا اور کہا اللہ حمد کو جزا دے مجھے میرا حق مل گیا۔اتنی دیر میں وہ شخص جو حضور کے تعاقب میں بھیجا گیا تھا واپس آ گیا اور ابوجہل کے متعلق سارا واقعہ بیان کیا تو سب سخت حیران ہوئے۔تھوڑی دیر بعد ابو جہل آیا تو سب نے اسے لعن طعن کی۔اس نے کہا جب میں محمد کے بلانے پر باہر آیا تھا تو میں نے دیکھا کہ محمد کے پیچھے قوی الجثہ خوفناک جبڑوں والا اونٹ ہے اور اگر میں انکار کرتا تو وہ مجھے نگل جاتا۔السيرة النبویہ لابن کثیر جلد اول ص 469 داراحیاء التراث العربی بیروت) عہد کو پورا کرو عہد کی پابندی کا جو احساس حضور ملالہ کے قلب مبارک میں تھا اس کا ایک عجیب نظارہ غزوہ بدر میں نظر آیا۔حضرت حذیفہ بن یمان کہتے ہیں کہ میں غزوہ بدر میں شامل نہ ہوسکا اس کی وجہ یہ ہوئی کہ میں اور میرا ایک ساتھی ابوحسیل سفر میں تھے کہ کفار مکہ نے ہمیں پکڑ لیا کہ تم محمد (متلاقہ ) کے پاس جارہے ہو( تا کہ آپ کے لشکر میں شامل ہو جاؤ)۔ہم نے کہا ہم تو مدینہ www۔alislam۔org