شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم — Page 16
25 25 24 میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یقیناً مجھے تو آپ کا قرب پسند ہے اور آپ کی خوشنودی مقصود ہے میں آپ کو خوشی سے اجازت دیتی ہوں۔اس پر حضور اٹھے اور گھر میں لٹکے ہوئے ایک مشکیزہ کی طرف گئے اور وضو کیا پھر آپ نماز پڑھنے لگے اور قرآن کا کچھ حصہ تلاوت فرمایا۔آپ کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگی ہوئی تھی پھر آپ بیٹھ گئے اور خدا کی حمد اور تعریف کی اور پھر رونا شروع کر دیا پھر آپ نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور پھر رونے لگے یہاں تک میں نے دیکھا کہ آپ کے آنسوؤں سے زمین تر ہوگئی اور اسی حال میں وہ رات گزرگئی اور جب صبح کے وقت حضرت بلال نماز کے لئے آپ کو بلانے آئے تو اس وقت بھی آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ رور ہے ہیں کیا آپ کے متعلق اللہ نے یہ خوشخبری نہیں دی وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَاتَقدَّم مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ پھر آپ کیوں روتے ہیں۔آپ نے فرمایا اے بلال کیا میں خدا تعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔( تفسیر کشاف زیر آیت ان فی خلق السموات والارض۔۔۔۔۔۔حسن وطوالت کا نہ پوچھ حضرت ابو سلمہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا کہ رسول کریم صل اللہ رمضان میں رات کو کتنی رکعات پڑھا کرتے تھے۔انہوں نے فرمایا:۔رسول کریم صتلاقہ رمضان اور اس کے علاوہ بھی رات کو گیارہ رکعات سے زائد نہیں پڑھتے تھے۔پہلے چار رکعات پڑھتے اور ان کے حسن اور طوالت کے بارہ میں نہ پوچھ۔پھر چار رکعات پڑھتے اور ان کے حسن اور طوالت کا بھی کیا کہنا۔حضرت عائشہؓ کہتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں۔فرمایا:۔اے عائشہ میری آنکھیں بظاہر سوتی ہیں مگر میرا دل نہیں سوتا۔(بخاری کتاب اتجد باب قیام النبی بابیل) -7 رمضان اور نفلی روزے تیز ہوائیں حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ملالہ لوگوں میں سب سے زیادہ نیکیاں بجالاتے تھے مگر رمضان میں تو یہ سلسلہ اور بھی زیادہ ہو جاتا تھا۔جبریل رمضان کی ہر رات آپ کے پاس آتے تھے اور رسول کریم ملالہ جبریل کے ساتھ مل کر قرآن کا دور کیا کرتے تھے۔اور ان دنوں رسول اللہ صل اللہ تیز ہواؤں سے بھی زیادہ نیکیوں میں بڑھ جاتے تھے۔آخری عشره ( صحیح بخاری کتاب بدء الوحی) حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو آنحضرت اپنی کمر ہمت کس لیتے۔اپنی راتوں کو زندہ کرتے اور اپنے اہل وعیال کو خصوصیت سے عبادت کے لئے جگاتے تھے۔( صحیح بخاری کتاب الصوم باب العمل في العشر الأخر ) اعتکاف حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ آنحضرت ملالہ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔اور وفات تک آپ کا یہی معمول رہا۔اس کے بعد آپ کی ازواج بھی انہی دنوں میں اعتکاف کیا کرتی تھیں۔( صحیح بخاری کتاب الاعتکاف باب الاعتكاف في العشر الاواخر ) www۔alislam۔org