شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم — Page 15
23 22 -6 تہجد ونوافل پاؤں سوج جاتے نماز با جماعت کے علاوہ آنحضور متلاقہ باقاعدگی سے نوافل اور نماز تہجد کا التزام فرمایا کرتے تھے۔جب سب دنیا سورہی ہوتی آپ اپنے بستر کو چھوڑ کر بے قرار دل کے ساتھ اپنے خالق و مالک اور محبوب ازلی کے حضور حاضر ہو جاتے۔اور اپنی مناجات پیش کرتے۔گویا در بار خاص لگ جاتا جس میں آپ ہوتے اور سامنے آپ کا رب ہوتا۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ملالہ نے فرمایا کہ ہمارا رب جو بڑی برکت اور بڑی شان والا ہے ہر رات جب اس کا ایک تہائی حصہ باقی رہتا ہے اس دنیاوی آسمان پر نازل ہوتا ہے اور یہ اعلان کرتا ہے۔کون ہے جو مجھے پکارے کہ میں اسے جواب دوں۔کون ہے جو مجھ سے سوال کرے تا میں اسے عطا کروں اور کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے تا میں اسے بخش دوں۔( صحیح مسلم کتاب صلوة المسافرين باب الترغیب فی الدعاء الذکر فی آخر الليل) آنحضرت ملاقہ رات کے وقت اس قدر دعائیں کرتے اور اس قدر لمبی نماز پڑھتے کہ حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ بعض دفعہ کھڑے کھڑے آپ کے پاؤں متورم ہو جاتے اور پھٹنے ( بخاری کتاب التهجد باب قیام النبی متلاقه ) لگتے۔ان کی شان تو اور ہے رات کا وقت ہے۔حضرت عائشہ کی آنکھ کھلتی ہے وہ آپ کو اپنے بستر پر نہیں پاتیں۔وہ کہتی ہیں ایک رات (میری آنکھ کھلی ) تو میں نے حضور کو اپنے بستر پر نہ پایا۔مجھے خیال آیا کہ حضور مجھے چھوڑ کر کسی اور بیوی کے پاس چلے گئے ہیں۔پھر میں حضور کو تلاش کرنے لگی تو کیا دیکھتی ہوں کہ حضور (نماز میں ) رکوع میں ہیں (یا شاید ) آپ اس وقت سجدہ کر رہے تھے اور یہ دعا کر رہے تھے کہ اے اللہ تو اپنی تمام تعریفوں کے ساتھ ہر قسم کی بزرگی کا حامل ہے ( تو میرا رب ہے ) تیرے سوا اور کوئی عبادت کے لائق نہیں اور آپ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ اے اللہ جو کچھ میں لوگوں سے چھپ کر کرتا ہوں اور جو کچھ میں ان کے سامنے کرتا ہوں ان میں سے ہر عمل کو اپنی رحمت اور مغفرت سے ڈھانپ لے۔حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ میں نے حضور کو جب نماز میں ) اس طرح اپنے مولیٰ کے حضور دعا کرتے دیکھا تو مجھے اپنی حالت پر افسوس ہوا اور میں نے دل ہی دل میں کہا تم کیا سمجھ بیٹھیں خدارا ان کی تو شان ہی کچھ اور ہے۔(نسائی کتاب عشرة النساء باب الغيرة وكتاب الصلوة باب الدعاء في السجود) عجیب بات حضرت ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ حضرت عائشہؓ سے پوچھا کہ آپ مجھے آنحضور ملالہ کی کوئی ایسی بات بتائیں جو آپ کو بہت ہی عجیب معلوم ہوتی ہو۔اس پر حضرت عائشہ روپڑیں اور ایک لمبے عرصہ تک روتی رہیں اور جواب نہ دے سکیں پھر فرمایا کہ آپ کی تو ہر بات ہی عجیب تھی کس کا ذکر کروں اور کس کا نہ کروں۔ایک رات میرے ہاں باری تھی حضور میرے پاس تشریف لائے بستر میں داخل ہوئے اور فرمایا اے عائشہ کیا مجھے اس بات کی اجازت دیں گی کہ میں اپنے رب کی عبادت میں یہ رات گزاروں۔www۔alislam۔org