شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم — Page 41
75 74 کچھ دیر کے لئے خاموش رہے پھر اس بدو سے مخاطب ہوئے اور فرمایا ہاں یہ سب مال تو اللہ کا ہی مال ہے اور میں بھی تو اسی کا بندہ ہوں میرا تو سب کچھ اسی کا ہے۔پھر آپ نے اسے کہا کہ اے اعرابی جو کچھ تو نے اس وقت میرے ساتھ کیا ہے اس کا تو تجھ سے بدلہ لیا جانا چاہئے۔اس پر بدو نے کہا نہیں ایسا نہیں ہوگا۔آپ نے فرمایا آخر کس لئے۔بدو نے عرض کیا کہ حضور آپ تو کبھی بھی برائی کا بدلہ برائی سے نہیں لیتے۔حضور بدو کی بات سن کر ہنس پڑے پھر حکم دیا کہ اس کے ایک اونٹ پر کو اور دوسرے پر کھجور میں لاد دی جائیں اور اس کو اس مال کے ساتھ رخصت کر دیا جائے۔الشفاء لقاضی عیاض جلد اول ص 63) ☆☆☆ -31 معلم اخلاق حضرت مالک بن الحویرث بیان کرتے ہیں کہ ہم کچھ ہم عمر نوجوان آنحضرت ملالہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بیس دن حضور کے پاس رہے۔حضور ملالہ بہت ہی نرم دل اور مہربان تھے۔آپ سمجھ گئے کہ ہم اپنے گھر والوں کے لئے اداس ہو گئے ہیں تو حضور نے ہم سے ہمارے گھر والوں کے بارے میں پوچھا اور فرمایا:۔اب تم اپنے گھروں کو واپس جاؤ۔ان کو دین سکھاؤ۔نیکیوں کا حکم دو اور جیسے میں نماز پڑھتا ہوں ویسے ہی نماز پڑھا کرو۔جب نماز کا وقت آئے تو تم میں سے کوئی اذان دیا کرے اور پھر جو بڑا ہے وہ نماز پڑھایا کرے۔( صحیح بخاری کتاب الادب باب رحمۃ الناس) طریق تربیت حضرت علی اپنا ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک موقعہ پر جبکہ حضرت علی نے آپ کو ایسا جواب دیا جس میں بحث اور مقابلہ کا طرز پایا جاتا تھا تو بجائے اس کے کہ آپ ناراض ہوتے یا خفگی کا اظہار کرتے آپ نے ایک ایسی لطیف طرز اختیار کی کہ حضرت علی غالبا اپنی زندگی کے آخری ایام تک اس کی حلاوت سے مزا اٹھاتے رہے ہوں گے اور انہوں نے جو لطف اٹھایا ہوگا وہ تو انہیں کا حق تھا۔اب بھی آنحضرت متقابلہ کے اس اظہار ناپسندیدگی کو معلوم کر کے ہر ایک بار یک بین نظر محو حیرت ہو جاتی ہے۔حضرت علی فرماتے ہیں کہ نبی کریم متلاقہ ایک رات میرے اور فاطمہ الزہرہ کے پاس تشریف لائے جو رسول اللہ " کی صاحبزادی تھیں اور www۔alislam۔org