شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 390 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 390

390 یہ بیان کر کے حضور نے فرمایا کنہہ معلوم کرنے کے معنی یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ کا احاطہ کیا جائے اور یہ نہیں ہو سکتا۔اگر ایسا ہوتا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام افعال باری تعالیٰ سے کیوں جواب دیتے۔دلیل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ آیت تلاوت فرمائی لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَيُدْرِكُ الْأَبْصَارِ (۲۸) بزرگ صاحب نے بیان کیا میں نے دیدار باری تعالیٰ کے متعلق ایک دفعہ حضرت خلیفہ امسیح الاول سے بھی سوال کیا تھا میں پسند کرتا ہوں کہ میں اُس جواب کو بھی بیان کر دوں۔حضرت خلیفہ اسی اول نے فرمایا تھا کہ رویت (دیدار ) الگ چیز ہے اور ادراک الگ چیز ہے اور دلیل میں یہ آیت ( بیان ) فرمائی۔فَلَمَّا تَرَاءَ الجَمُعَانِ قَالَ اصْحَابٌ مُوسى إِنَّا لَمُدْرَكُونَ - قَالَ كَلَّا إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِين - سوره الشعراء آیت ۶۲) فرمایا۔دیکھو اس آیت شریف میں دو باتیں ہیں ایک رویت اور دوسرا ادراک۔دیدار تو تراء کے لفظ سے ثابت ہے لیکن ادراک ثابت نہیں ہوتا کیونکہ موسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں کلا نہیں ہم مدرک نہیں۔یہاں کلا سے دیدار کی نفی مراد نہیں تھی اس سے معلوم ہوا ادراک اور ہے اور دیدار اور دیدار کے معنی ہیں دیکھنا اور ادراک کے معنی ہیں احاطہ کرنا۔اگر دونوں کے ایک ہی معنی ہوتے تو موسیٰ علیہ السلام لفظ کلا کہہ کر انکار کیونکر کرتے (۲۹) بزرگ صاحب فرماتے تھے کہ میں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھتا - تو میرے منہ سے بے اختیار نکلتا تھا ہیں (۳۰) اللهم صل على محمد اور مجھے اس بات کا خیال بھی نہ ہوتا تھا کہ آپ سوائے رسول کریم کے کوئی اور آدمی بزرگ صاحب فرماتے تھے کہ کرم دین کا مقدمہ جب بہت لمبا ہو گیا تو حضرت مسیح