شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 336 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 336

336 سے کاٹی گئی ہے اور وہ ایک شخص کے ہاتھ میں ہے۔تو کسی نے کہا کہ اس شاخ کو اس زمین میں جو میرے مکان کے قریب ہے اس بیری کے پاس لگا دو جو اس سے پہلے کاٹی گئی تھی اور پھر دوبارہ اُگے گی اور ساتھ ہی مجھے یہ وحی ہوئی کہ کابل سے کاٹا گیا اور سیدھا ہماری طرف آیا اس کی میں نے یہ تعبیر کی کہ تخم کی طرح شہید مرحوم کا خون زمین پر پڑا ہے اور وہ بہت بار ور ہو کر ہماری جماعت کو بڑھا دے گا‘ (۹۱) بعض احمدی بزرگ شعراء کے کلام کا انتخاب مولوی نعمت اللہ خان شہید کے بارہ میں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب زندہ عشق ہوئے داخل زنداں ہو کر قرب دلدار ملا یار پہ قرباں ہو کر سنگ ساری نے کیا حسن دو بالا تیرا خوب تر ہوگئی یہ زلف پریشاں ہو کر کشت اسلام کو سینچا ہے لہو سے اپنے تو نے مخمور خم بادۂ عرفاں ہو کر دیکھنا! گشته محبوب چلا مقتل کو پابہ جولاں بہ سر شوق خراماں ہو کر سنگ باری سے ترا نور بجھایا نہ گیا ذرہ ذرہ چمک اٹھا مہ تاباں ہو کر حرف آنے نہ دیا صدق و وفا پر اپنے سہہ لیا جور عدا خرم و خنداں ہو کر مذہب عشق کی دنیا سے نرالی ہیں رسوم زندگی ملتی ہے اس راہ میں بے جاں ہو کر سرخرو دونوں جہانوں میں ہوئے تم والله داخل میکده بزم شہیداں ہو کر لوگ کہتے تھے کہ رہ قُرب الہی کیا ہے نعمت اللہ نے دکھلا دیا قرباں ہو کر حق بھی مٹتا ہے تعدی سے کہیں اے ظالم خود ہی مٹ جائے گا تو دست وگریباں ہو کر تو نے کہلا کے مسلمان وہ غداری کی رہ گئے گبر بھی انگشت بہ دنداں ہو کر ہرگز اس حزب الہی سے نہ رکھنا امید ترک کر دیں گے یہ تبلیغ ہراساں ہو کر سالک راہ محبت سے یہ ممکن ہی نہیں جان دینے سے ڈرے عاشق جاناں ہو کر