شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 335
335 اخبار بدر ۵ / جنوری ۱۹۰۶ ء و اخبار الحکم ۱۰ / جنوری ۱۹۰۶ ء آپ نے فرمایا کہ ” ظاہر پر حمل کر کے ہم نے تین بکرے ذبح کروا دئے ہیں۔“ جیسا کہ بعد کے واقعات سے ظاہر ہوا ہے کہ تین بکروں کے ذبح کئے جانے کی پیشگوئی سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ کے زمانہ میں ۱۹۲۴ ء اور ۱۹۲۵ء میں کابل میں مولوی نعمت اللہ خان صاحب شہید - قاری نور علی صاحب شہید اور مولوی عبدالحلیم صاحب شہید کی سنگساری سے پوری ہوئی۔افغانستان میں احمدیت پھیل جانے کی عظیم الشان پیشگوئی سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام صاحبزادہ سید محمد عبداللطیف صاحب شہید کے بارہ میں ارشادفرماتے ہیں : عجیب بات یہ ہے کہ ان کے بعض شاگرد بیان کرتے ہیں کہ جب وہ وطن کی طرف روانہ ہوئے تو بار بار کہتے تھے کہ کابل کی زمین اپنی اصلاح کے لئے میرے خون کی محتاج ہے۔اور درحقیقت وہ سچ کہتے تھے کیونکہ سرزمین کابل میں اگر ایک کروڑ اشتہار شائع کیا جاتا اور دلائل قویہ سے میرا مسیح موعود ہونا ان سے ثابت کیا جاتا تو ان اشتہارات کا ہرگز ایسا اثر نہ ہوتا جیسا کہ اس شہید کے خون کا اثر ہوا۔کابل کی سرزمین پر یہ خون اس تخم کی مانند پڑا ہے جو بہت تھوڑے عرصہ میں بڑا درخت بن جاتا ہے اور ہزار ہا پرندے اس پر اپنا بسیرا کر لیتے ہیں۔‘ (۹۰) حضور فرماتے ہیں: میں نے ایک کشفی نظر میں دیکھا۔کہ ایک درخت سرو کی ایک بڑی لمبی شاخ۔۔۔۔جو نہایت خوبصورت اور سرسبز تھی۔ہمارے باغ میں