شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 317 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 317

317 باری بھی شروع کر دی۔شہر میں دہشت پھیل گئی عوام نے جس طرح بھی ممکن ہو سکا اپنی جانوں اور اموال کو محفوظ کرنے کے لئے ہر کوچہ و بازار میں حفظ ما تقدم کے لئے دیوار بندیاں کر لیں اور دروازے بند کر کے محصور ہو گئے۔تمام وزراء بڑے بڑے سردار اور شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے لوگ ارک شاہی میں جمع ہو گئے خوف کے مارے بچوں اور عورتوں میں ایک گہرام مچ گیا۔کابل میں شہر کی حفاظت کے لئے میر غوث الدین خان احمد ز کی ایک لشکر جمع کر رہا تھا جسکا مقصد امیر امان اللہ خان کی حفاظت اور مدد کرنا تھا اس لشکر کو بادشاہ کی طرف سے بھی اسلحہ دیا گیا تھا۔بچہ سقاؤ کے حملہ کرنے پر میر غوث الدین خان چپ کر کے اپنے لشکر سمیت کابل چھوڑ کر اپنے وطن روانہ ہو گیا۔صبح ہوتے ہوتے اسکے چلے جانے کی شہرت پھیل چکی تھی۔کابل میں امیر امان اللہ خان کے آخری دن دستبرداری اور کابل سے فرار بادشاہ اپنے آپ کو چاروں طرف سے محصور پا کر اپنے خاندان کے ساتھ تن بہ تقدیر رہنے پر مجبور تھا بادشاہ اور دیگر خاندان شاہی کی بے بسی اور آہ بکا کا عجیب نظارہ تھا۔ارک کا محافظ دستہ اور شاہی رسالہ کے کچھ فوجی جوارک کے آس پاس اور اندر موجود تھے اپنے بادشاہ اور اپنے ملک پر اپنا آخری قطرہ خون نچھاور کرنے کے لئے تڑپ رہے تھے اور وہ تمام ڈسپلن کو بالائے طاق رکھ کر باہر جا کر بچہ سقاؤ کے فوجیوں پر یک لخت حملہ کرنے کے لئے بے چین ہورہے تھے لیکن امیر امان اللہ خان کی والدہ علیا حضرت ان کی بلائیں لے کر ان کو روک رہی تھیں اور با چشم زار ان کو کہہ رہی تھیں کہ خدا کے لئے تم ارک چھوڑ کر نہ جاؤ ہم یہیں اکٹھے مریں گے وہ کون سا دل ہو گا جو ان کی یہ حالت دیکھ کر متاثر ہوئے بغیر رہ سکتا تھا۔شہر سے باہر قریب مقام پر جہاں بچہ سقاؤ کا لشکر موجود تھا شاہی فوج سے لڑائی جاری تھی قلعہ بلند میں جو میگزین تھا بچہ سقاؤ کے ساتھیوں نے اس پر قبضہ کر لیا وہاں سے اسلحہ دوسرے مقامات پر منتقل کر نے لگے تھے۔