شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 312
312 اللہ خان بدعہدی کا عادی ہے۔خصوصاً بغاوت سمت جنوبی کے بعد جب بغاوت کے لیڈراس کے تحریری وعدہ پر کہ اگر وہ بغاوت ترک کر دیں گے تو انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا کا بل آگئے تھے تو ان کے قابو آ جانے کے بعد امیر امان اللہ خان نے اپنے قرآن مجید پر لکھے ہوئے وعدہ کی ذرہ بھر بھی پرواہ نہیں کی تھی اور باغیوں کے لیڈروں یعنی ملا عبد اللہ ملآئے لنگ اور اس کے داماد ملا عبدالرشید ملائے دبنگ کو قتل کروا دیا تھا۔شنواری باغیوں کا مطالبہ تھا کہ وہ امیر امان اللہ خان کی بادشاہت قبول کرنے کے لئے ہر گز تیار نہ ہوں گے۔البتہ اگر کوئی اور بادشاہ مقرر ہو جائے تو اس پر غور کر سکتے ہیں۔اس پر سردار علی احمد جان نے امیر امان اللہ خان کے مشورہ کے مطابق اپنی بادشاہت کا اعلان کر دیا اور لوگوں کو اپنی بیعت کے لئے بلایا۔سمت شمالی یعنی جبل السراج اور کوہ دامن کے علاقہ میں شورش کا آغاز اور اس کا سمت مشرقی کی بغاوت پر اثر ابھی سردار احمد علی جان اور سمت مشرقی کے قبائلیوں میں گفت و شنید جاری تھی کہ حالات نے ڈرامائی انداز میں پلٹا کھایا اور کابل کی سمت شمالی میں ایک اور بغاوت شروع ہو گئی یہ بغاوت ایک تا جک ڈاکو مسمی حبیب اللہ عرف بچہ سقاؤ اور سید حسین ڈاکو جو پہاڑی علاقے کا رہنے والا تھانے شروع کی۔بچہ سقا ؤ پہلے حکومت کی فوج میں تھا اس کی پلٹن قطعہ نمونہ کہلاتی تھی اور اس کے تیار کرنے میں ترکی جرنیل جمال پاشا کا ہاتھ تھا۔اس نے بغاوت منگل فرو کرنے میں کافی حصہ لیا بعد میں یہ کابل آگئی کچھ عرصہ بعد بچہ سقاؤ کا جھگڑا بعض فوجی افسروں سے ہو گیا اور اس کے ہاتھ سے چند فوجی مارے گئے۔اس پر بچہ سقاو فرار ہو گیا اور اپنے علاقے میں جا کر ڈاکہ زنی کا پیشہ اختیار کر لیا۔بچہ سقاؤ کا ذکر آگے زیادہ تفصیل سے آئے گا۔ہم سمت مشرقی کی بغاوت کا ذکر کر رہے تھے اس علاقہ میں سردار علی احمد جان نے اپنی بادشاہت کا اعلان کیا ہوا تھا اور بعض قبائل کے لوگ جن میں خوگیانی، شنواری، مومند آفریدی وغیرہ تھے اس کے گرد اکٹھے ہونا