شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 298 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 298

298 سے مختلف یورپین حکومتوں نے آپ کا شاندار استقبال کیا ہے اور جو نہ صرف آپ کے شاہانہ اعزاز کے شایاں ہے۔بلکہ اس میں دوستانہ مہمان نوازی کی روح بھی پائی جاتی ہے وہ سب یور میجسٹی کی ان عملی اور سرگرم کوششوں کی خوبیوں کا کھلا کھلا اعتراف ہے جو آپ اپنے ملک کو دوسرے مہذب ممالک کا ہم پلہ بنانے کے لئے کر رہے ہیں اور وہ اصلاحات جو اندرونِ ملک جاری فرما ر ہے ہیں۔جس حیرت انگیز طریق سے یور میجسٹی نے اپنی قوم کی جو کہ پرانی لکیر کی فقیر اور آبائی رسم و رواج عادات و اطوار اور خیالات کی نہایت سختی سے پابند چلی آتی تھی۔طرز معاشرت تھوڑے سے عرصہ میں بدل دی ہے۔یقیناً یہ ایک ایسا کارنامہ ہے۔جس نے یور میجسٹی کے لئے موجودہ زمانہ کے روشن دماغ حکمرانوں کی صف اول میں۔۔۔جگہ پیدا کر دی ہے۔جس اخلاص اور عقیدت کا ان ممالک کے لوگوں نے جہاں کی یور میجسٹی نے سیاحت فرمائی ہے ثبوت پیش کیا ہے وہ نہ صرف یور میجسٹی کی افغان رعایا کے لئے ہی بلکہ جملہ پیروان اسلام کے لئے بھی باعث افتخار و اطمینان ہے تمام دنیا کے مسلمان یور میجسٹی کو اپنا ایک لیڈر اور حامئی اسلام یقین کرتے ہیں۔یور میجسٹی اسلام کی تعلیم کی بے شمار خوبیوں میں سے اپنے اثرات اور نتائج کے لحاظ سے غالباً سب سے زیادہ اہم وہ عالمگیر اُخوت اور مساوات کی تعلیم ہے جس میں ایک حکمران اور مزدور برابر سمجھے جاتے ہیں۔اور ہم محسوس کرتے ہیں کہ یور میجسٹی اس بیش قیمت اصل کی حقیقت کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔یہ بھی ایک وجہ ہے جس سے ہمارے دلوں میں یور میجسٹی کی تو قیر اور بھی زیادہ ہے۔ہمیں وہ الفاظ اچھی طرح یاد ہیں۔جو یور میجسٹی نے ہندوستان میں ایک ایڈریس کے جواب میں فرمائے اور جو یہ ہیں : ”میری مملکت میں ہندوستانی افغانوں کے ساتھ محبت و آشتی سے رہتے ہیں۔ہندؤں کو مسلمانوں کے مساوی حقوق حاصل ہیں۔اور وہ بھائی بھائی کی طرح رہتے ہیں۔