شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 296
296 کے جواب میں اعلیٰ حضرت نے عورتوں کی تعلیم پر زور دیا۔تیسرا وفدان افغانوں کی طرف سے تھا جو ہندوستان میں مقیم ہو چکے ہیں۔اس سپاس نامہ میں اعلیٰ حضرت کی مذہبی رواداری کا شکر یہ ادا کیا گیا۔اعلیٰ حضرت نے انہیں تاکید کی وہ ہندوؤں کے ساتھ دوستانہ طور پر رہیں اور اپنے آپ کو عام مسلمانوں بلکہ عام ہندوستانیوں سے علیحدہ قوم تصور نہ کیا کریں۔آپ نے فرمایا کہ افغانستان مذہبی رواداری میں کسی ملک سے پیچھے نہیں اور جاہل مسلمانوں کا اثر روز بروز کم ہو رہا ہے۔۱۷ دسمبر کو بعد دو پہر حضرت شاہ افغانستان گھوڑ دوڑ میں سرکاری جاہ و جلال کے ہمراہ تشریف لے گئے۔تو وہاں اس قدر مجمع تھا جس کی نظیر کورس کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ہر میجسٹی نے شیو برت گھوڑے کے بازی لے جانے پر مہاراجہ کو ہلہ پور کے پرائیویٹ سیکرٹری کو ارون کپ عطا کیا اور شاہی جلوس کے ہمراہ رخصت ہو گئے۔اس کے بعد اعلیٰ حضرت گورنر بمبئی کی معیت میں اور علیا حضرت لیڈی ارون کے ہمراہ باب الہند (India Gate تشریف لے گئے وہاں گارڈ آف آنر کا معائنہ کرنے کے بعد ہر میجسٹی نے لیڈی اِرون اور گورنر کو رخصت کیا اور خود موٹر کشتی پر سوار ہو گئے اور بحری جہاز راجپوتانہ کو تشریف لے گئے۔جہاز راجپوتانہ کا ایک حصہ اعلیٰ حضرت بادشاہ غازی اور علیا حضرت ملکہ معظمہ کے استعمال کے لئے مخصوص کیا گیا تھا۔جہاز باب الہند کے مقابل کھڑا تھا۔جب اعلیٰ حضرت جہاز پر سوار ہوئے انڈین میرین (ہندوستانی بحریہ کے جہازوں نے سلامی کی تو ہیں سرکیں۔ائیر فورس کے جہا ز سر پر حلقہ کئے ہوئے تھے۔جب جہاز راجپوتانہ روانہ ہوا تو سب نے سلامی اُتاری - (۷۹)