شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 235
235 تھوڑی دیر تک ادھر ادھر کی باتیں ہوئیں اتنے میں مولوی رحیم بخش صاحب واپس آگئے۔پھر حضور نے ان سے مختلف نظمیں سنیں اور اس کے بعد پھر اور اذکار جاری رہے حتی کہ رات کے ٹھیک دس بجے حضور مسجد کے کمرہ سے اٹھے (۳۴) امیر کابل کے خلاف انسانیت فعل کے خلاف دول یورپ و امریکہ سے اپیل لنڈن ۴ ستمبر - حضرت خلیفہ المسیح نے جمیعۃ الاقوام کے صدر- برطانیہ عظمی۔فرانس اور اٹلی کے وزرائے اعظم اور اضلاع متحدہ امریکہ کے صدر کو برقی پیغامات بھیجے ہیں۔جن میں نعمت اللہ خان احمدی کو احمدی ہونے کی وجہ سے حکومت کا بل کے حکم سے سنگسار کرنے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی ہے۔اور توقع ظاہر کی ہے۔کہ یہ حکومتیں حکومت افغانستان کے اس خلافِ انسانیت فعل کے خلاف احتجاج کریں گی جو کہ دغا بازی پر مبنی ہے۔کیونکہ افغانستان میں مذہبی آزادی کا اعلان کیا گیا تھا۔اور احمدیوں کو یقین دلایا گیا تھا کہ ان سے کسی قسم کا تعرض نہ کیا جائے گا‘ (۳۵) مولوی نعمت اللہ خان کی شہادت کے بارہ میں لندن میں ایک بنگالی صاحب کے سوال کے جواب میں سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے ارشادات ۵ ستمبر ایک بنگالی صاحب جو بہت بااثر اور با رسوخ ہیں حضور سے ملنے کے لیے آئے۔مولوی نعمت اللہ خان کی شہادت کے ذکر پر کہنے لگے اس واقعہ کے خلاف آواز اٹھانے پر ہندوستان کے مسلمان بھی اور حکومت کا بل بھی آپ کے سخت خلاف ہو جائیگی۔اور آپ کو مشکلات کا سامنا ہو گا۔حضور نے فرمایا کچھ پرواہ نہیں۔پہلے کونسے یہ لوگ ہمارے دوست ہیں۔اب مظلوم ہو کر بھی اگر آواز نہ اٹھا ئیں تو کیا کریں۔اس پر اس نے کہا کہ اگر حکومت کا بل کو اس سے کوئی نقصان ہوا تو آپ کو تکلیف تو نہ ہوگی۔آخر اسلامی حکومت ہے۔