شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 198 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 198

198 کو ۱۹۱۸ء میں شیر پور جیل میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں اور جیل خانہ کی سختیوں کی وجہ سے صاحبزادگان بیمار ہو گئے اور ان میں سے دور ہائی کے کچھ عرصہ بعد کا بل میں فوت ہو گئے ان کے نام صاحبزادہ محمد سعید جان صاحب اور صاحبزادہ محمد عمر صاحب تھے۔جب صاحبزادگان جیل میں تھے تو کابل میں ان کی ایک والدہ ماجدہ کا انتقال ہو گیا لیکن حکومت نے صاحبزادگان کو جنازہ میں شرکت یا مرحومہ کا چہرہ دیکھنے کا موقعہ بھی نہیں دیا صرف بڑے صاحبزادے کو اصرار کرنے پر یہ اجازت دی گئی کہ وہ اپنی والدہ صاحبہ کی تجہیز و تکفین و تدفین کا انتظام کرے۔امیر حبیب اللہ خان کے علاوہ اس کا چھوٹا بھائی سردار نصر اللہ خان اور افغانستان کے ملا اور قاضی احمدیوں کو ایذا دینے میں پیش پیش تھے۔اسی طرح بعض ہندوستانی جو ہجرت کر کے کا بل آگئے تھے اور جن کا تعلق پنجاب کے اہل حدیث فرقہ سے تھا بسلسلہ ملازمت امیر افغانستان میں رہتے تھے۔یہ لوگ بھی احمدیوں سے بہت تعصب اور عناد رکھتے تھے اور سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور جماعت احمدیہ کے بارہ میں غلط باتیں امیر کا بل اور افغانستان کے ملاؤں کے کانوں میں ڈالتے رہتے تھے۔اور ان کو احمد یوں کو قتل کرنے اور دکھ دینے پر ابھارتے تھے ان میں نمایاں تین شخص تھے ایک ڈاکٹر عبدالغنی اور اس کے دو بھائی مولوی نجف علی اور مولوی محمد چراغ یہ جلالپور جٹاں ضلع گجرات کے رہنے والے تھے اور امیر عبدالرحمن خان اور امیر حبیب اللہ خان کے زمانہ سے افغانستان میں مقیم تھے اور امراء افغانستان کے ہاں رسوخ رکھتے تھے۔سردار نصر اللہ خان سے ان کے خاص تعلقات تھے۔(۳) افغانستان کے بادشاہ امیر حبیب اللہ خان کا قتل اور امیر امان اللہ خان کی تخت نشینی اور امیر حبیب اللہ خان کی عادت تھی کہ وہ عموماً موسم سرما میں کا بل سے باہر کسی پر فضا مقام پر سیر و تفریح و شکار کے لیے جایا کرتا تھا اس کے خاندان کے افراد۔بعض وزراء اور سرداران کا بل اس کے ساتھ ہوتے تھے اس کی غیر حاضری میں بالعموم اسکا بڑا بیٹا سردار عنایت اللہ