شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 185
185 مکان کے ایک طرف سے نکل کھڑے ہوئے اس وقت فوجی سوار مکان کے دوسری طرف تھے اور صاحبزادہ محمد طیب صاحب گھر کے بقیہ سامان و اسباب کو سنبھال کر صبح ایک دوسرے راستہ سے روانہ ہوئے۔جب ان تین سواروں کو ہمارے نکل جانے کا علم ہوا تو وہ گاؤں کے نمبر داروں اور سر بر آوردہ لوگوں کو لے کر ہمارے تعاقب میں چلے اور ایک مقام پر جس کا نام گریز ہے۔صبح کے وقت سب کو گرفتار کر لیا اور واپس گاؤں میں لے آئے عورتوں اور بچوں کو تو ایک شریف آدمی جس کا نام بہرام خان تھا کی ضمانت پر چھوڑ دیا اور مردوں کو قید کر کے خوست کی چھاؤنی میں لے گئے۔کچھ عرصہ کے بعد خوست کا حاکم بدل گیا اور اس کی جگہ دوسرا حاکم آگیا اس پر ہم نے اس کو درخواست دی کہ ہم بے قصور ہیں ہمیں چھوڑ دیا جائے اس پر اس نے ہماری مسل منگوائی جسے پڑھ کر اس نے کہا کہ صاحبزادہ عبد السلام جان کو تو میں خود رہا کرتا ہوں باقی دو کی رہائی کے لئے حاکم اعلیٰ کو لکھ کر مسل اسے بھجوا دی اس نے جواب بھجوایا کہ ان لوگوں نے چونکہ احمدیت کی وجہ سے بغاوت کی تھی اور احمدیت کے باعث ان کو گرفتار کیا گیا تھا اس لئے ان کے متعلق خوست کے سرداروں سے مشورہ کیا جائے کہ ان کو رہا کر دیا جائے یا نہ خوست کے سر کر دہ لوگوں نے کہا کہ ہم ان کا کوئی قصور نہیں سمجھتے یہ لوگ خودشریف ہیں اور شریف زادے ہیں انہوں نے کبھی حکومت کے خلاف کسی فساد میں حصہ نہیں لیا۔اپنے باپ کے وقت سے حکومت کے خیر خواہ اور مددگار چلے آئے ہیں اس پر ہمیں رہا کر دیا گیا۔اس کے بعد ایک ہفتہ ہی گزرا تھا کہ خوست کے گورنر نے حکم بھیجد یا کہ ان کو گرفتار کر کے کا بل بھیج دیا جائے اس پر سید ابوالحسن قدسی کو گرفتار کر کے خوست کی چھاؤنی میں لے گئے وہاں حاکم ضلع سے حاضری کی ضمانت لے کر اس لئے رہا کر دیا کہ اپنے باقی بھائیوں کو بھی جا کر لے آؤ۔سید ابوالحسن قدسی کے واپس آنے پر سارے خاندان نے مل کر مشورہ کیا کہ ب کیا کرنا چاہیئے۔آخر یہ تجویز ہوئی کہ چونکہ ہمارے متعلق حکومت کی نیت بخیر نہیں معلوم ہوتی اس لئے ہمیں یہ ملک چھوڑ کر باہر چلے جانا چاہئیے۔چنانچہ ۲ فروری ۱۹۲۶ء کو وہاں سے