شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 153
153 میرے ہاتھو! کیا تم ہتھکڑیوں کی برداشت کر لو گے؟ اُن کے گھر کے لوگوں نے پوچھا کہ یہ کیا بات آپ کے منہ سے نکلی ہے۔تب فرمایا کہ نماز عصر کے بعد تمہیں معلوم ہوگا کہ یہ کیا بات ہے۔تب نما ز عصر کے بعد حاکم کے سپاہی آئے اور گرفتار کر لیا اور گھر کے لوگوں کو انہوں نے نصیحت کی کہ میں جاتا ہوں اور دیکھو ایسا نہ ہو کہ تم کوئی دوسری راہ اختیار کرو۔جس ایمان اور عقیدہ پر میں ہوں چاہیئے کہ وہی تمہارا ایمان اور عقیدہ ہو۔(۴) 66 دیگر احباب کی روایتیں اور تحریریں خاندان کی خوست میں گرفتاری اور کا بل روانگی صاحبزادہ سید ابوالحسن قدسی صاحب جو حضرت صاحبزادہ صاحب کی شہادت کے وقت اُن کے بیٹوں میں سے چوتھے بیٹے تھے بیان کرتے ہیں کہ جب صاحبزادہ صاحب کو سنگساری کا حکم سنایا گیا۔اُس کے بعد یہ حکم صادر ہوا کہ اُن کے تمام رشتہ داروں اور تمام خاندان کو گرفتار کر کے کابل لایا جائے۔ان کی تمام جائداد ضبط کر لی جائے۔اُن کی اس زمین کے بدلہ میں کابل میں زمین دی جائے گی۔اور ان کو نظر بندی کی حالت میں کابل میں رکھا جائے گا یہ حکم حاکم خوست کو پہنچا یہ حاکم جس چھاؤنی میں رہتا تھا وہ چھاؤنی سید گاہ سے تقریباً پانچ میل کے فاصلہ پر تھی۔حاکم خوست نے جس کا نام عبدالرحمن یا عطاء الرحمن خان تھا کچھ فوجی سپاہی گرفتاری کے واسطے بھیجے۔اُس وقت شہید مرحوم کی دو بیویاں اور پانچ لڑکے اور پانچ لڑکیاں تھیں پانچ لڑکوں میں سے سب سے بڑے جن کی عمر قریباً بائیس برس کی ہو گی محمد سعید مرحوم تھے باقی بچے چھوٹے تھےمحمد سعید سے چھوٹے عبدالسلام - پھر محمدعمر پھر ابوالحسن پھر محمد طیب -محمد طیب کی عمر تقریباً ڈیڑھ سال تھی - (۵) جس وقت حضرت صاحبزادہ سید عبد اللطیف کی شہادت کا جانکاہ واقعہ کا بل کی خون ریز اور سفاک سرزمین میں رونما ہوا اس وقت صاحبزادہ ابوالحسن کی عمر تین سال کے