شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 108
108 شخص کے کفر میں کیا شک رہا اور بڑی غضبناک حالت میں یہ کفر کا فتو ی لکھا گیا۔(۱۱۰) امیر حبیب اللہ خان کی طرف سے ملانوں کے فتویٰ کی توثیق اور حضرت صاحبزادہ صاحب کو سنگسار کئے جانے کا فیصلہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : بعد اس کے کہ فتویٰ کفر لگا کر شہید مرحوم قید خانہ میں بھیجا گیا۔صبح روز دوشنبہ کو شہید موصوف کو سلام خانه یعنی خاص مکان در بارا میر صاحب میں بلایا گیا۔اس وقت بھی بڑا مجمع تھا۔امیر صاحب جب ارک یعنی قلعہ سے نکلے تو راستہ میں شہید مرحوم ایک جگہ بیٹھے تھے۔ان کے پاس سے ہوکر گزرے اور پوچھا کہ اخوند زادہ صاحب کا کیا فیصلہ ہوا۔شہید مرحوم کچھ نہ بولے۔کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان لوگوں نے ظلم پر کمر باندھی ہے مگر سپاہیوں میں سے کسی نے - 66 کہا کہ ملامت ہو گیا یعنی کفر کا فتویٰ لگ گیا۔(۱۱۱) اسی طرح آپ فرماتے ہیں : وہ فتویٰ کفر رات کے وقت امیر صاحب کی خدمت میں بھیجا گیا اور یہ چالا کی کی گئی کہ مباحثہ کے کاغذات ان کی خدمت میں عمداً نہ بھیجے گئے اور نہ عوام پر ان کا مضمون ظاہر کیا گیا۔یہ صاف اس بات پر دلیل تھی کہ مخالف مولوی شہید مرحوم کے ثبوت پیش کردہ کا کوئی رد نہ کر سکے۔مگر افسوس امیر پر کہ اس نے کفر کے فتویٰ پر ہی حکم لگا دیا اور مباحثہ کے کاغذات طلب نہ کئے۔حالانکہ اس کو چاہئے تو یہ تھا کہ اس عادل حقیقی سے ڈر کر جس کی طرف عنقریب تمام دولت و حکومت کو چھوڑ کر واپس جائے گا خود مباحثہ کے وقت حاضر ہوتا۔بالخصوص جبکہ وہ خوب جانتا تھا کہ اس مباحثہ کا نتیجہ ایک معصوم بے گناہ کی جان ضائع کرنا ہے۔تو اس صورت میں مقتضی خدا ترسی کا یہی تھا کہ بہر حال افتان و خیزاں اُس مجلس میں جاتا۔اور نیز چاہئے تھا که قبل ثبوت کسی جرم کے اس شہید مظلوم پر یہ بختی روا نہ رکھتا کہ ناحق ایک مدت تک قید کے عذاب میں ان کو رکھتا اور زنجیروں اور ہتھکڑیوں کے اس شکنجہ میں اُس کو دبایا جاتا اور آٹھ -