شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 91 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 91

91 اس کے پیر بھی۔قادیان جانا بھی کفر ہے۔آپ ان باتوں سے باز آ جائیں ورنہ اگر یہ امیر حبیب اللہ خان کے علم میں آیا تو وہ ہم سب کو قتل کروادے گا۔آپ نے فرمایا کہ مناسب ہے کہ تم یہ ملک چھوڑ کر بنوں چلے جاؤ وہاں ہماری زمین بھی ہے۔یہ امر تمہارے لئے اس سے بہتر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مامور کا انکار کرو ورنہ میں تمہارے لئے ایک ایسی بلا لایا ہوں کہ کبھی بھی تم اس سے بچ نہیں سکتے۔میں تو اس بات سے ہرگز نہیں ٹلوں گا۔یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے مجھے اس کا پہنچا نا لا زم ہے۔میں نے اپنا نفس ، اپنا مال اور اپنی اولاد اس راہ میں دے دی ہے اور تم دیکھ لو گے کہ میں اور میرے اہل وعیال کس طرح اس راہ میں فدا ہوتے ہیں لیکن وہ لوگ آپ کی بات نہ مانے اور انکار کرتے رہے۔(۸۴) علی الاعلان تبلیغ کا آغاز حضرت صاحبزادہ صاحب کی واپسی کی خبر سن کر اس علاقہ کے رؤسا آپ کو ملنے آۓ۔آپ نے انہیں بھی بتایا کہ میں اس سال حج نہیں کر سکا بلکہ حج کو جاتے ہوئے ہندوستان میں ایک مقام قادیان میں گیا تھا وہاں ایک شخص نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔اس کا فرمان ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوں اور اس نے مجھے اس زمانہ کی اصلاح کے لئے بھیجا ہے۔میرا آنا خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق ہے۔میں وقت مقررہ پر آیا ہوں۔اسے دیکھا اور اس کے حالات معلوم کئے۔اس کے تمام اقوال اور افعال قرآن مجید کے مطابق ہیں اور اس کا دعوی سچا ہے۔تمہیں چاہئے کہ اس کو مان لو اس سے تمہیں فائدہ ہوگا۔اگر نہ مانو تو تمہارا اختیار ہے میں تو مان چکا ہوں۔اس پر حاضرین نے کہا کہ صاحبزادہ صاحب آپ یہ باتیں نہ کریں اس سے پہلے امیر عبدالرحمن خان نے ان باتوں کو پسند نہیں کیا تھا اور مولوی عبد الرحمن خان کو قتل کروا دیا تھا۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے فرمایا کہ تمہارے دو خدا ہیں۔جتنا خدا سے ڈرنا