شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 46 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 46

46 سرکاری فوج اتری ہوئی تھی۔جدران قبیلہ کے لوگ بڑی تعداد میں جمع ہو گئے اور فوج کو گھیرے میں لے لیا۔رات کا وقت تھا جہاں بھی روشنی ہوتی قبائلی وہاں فائر کرتے اور کچھ لوگوں کو زخمی کر دیتے۔آخر تمام روشنیاں اور آگیں بجھا دی گئیں۔جدران قبیلہ کے لوگ قریب آگئے اور گھیرا تنگ کر دیا۔وہ لوٹ مار کرنا چاہتے تھے۔سردار شیر میں دل خان پریشان ہو گیا۔اس موقعہ پر حضرت صاحبزادہ صاحب نے فوری کاروائی کی ہدایت دی۔فوج کے چاروں طرف تو ہیں نصب کروا دیں اور باغیوں پر فائز کر نے کا حکم دیا۔باغی اس قدر بدحواس ہوئے کہ انہوں نے فرار کا راستہ اختیار کیا اور فوج محفوظ ہوگئی۔اس طرح کی پر حکمت کا رروائیوں سے وہ تمام قبائل جو کبھی بھی رعایا بن کر نہ رہتے تھے بالآ خر مطیع ہو گئے۔اس کام میں مولوی عبد الرحمن صاحب شہید جو حضرت صاحبزادہ صاحب کے شاگرد تھے ساتھ شامل ہوتے تھے۔جب امیر عبدالرحمن خان کو بغاوت کے فرو ہونے کی اطلاع ملی اور حضرت صاحبزادہ صاحب کے کردار سے باخبر ہوا تو اس نے حضرت صاحبزادہ صاحب اور مولوی عبد الرحمن صاحب کے لئے سالانہ انعام کی رقم مقرر کئے جانے کا حکم دیا۔سید احمد نور لکھتے ہیں کہ حضرت صاحبزادہ صاحب بندوق چلانے میں بہت ماہر تھے۔(۷) ڈیورنڈ لائن کا تصفیہ امیر عبدالرحمن خان نے انگریزوں کے ساتھ سرحدات کی تقسیم کا معاہدہ ۱۸۹۳ء میں کا بل میں کیا تھا - Sir Olaf Caroc نے اپنی کتاب "The Pathans" میں اس معاہدہ کے واقعات امیر عبدالرحمن خان کے حوالہ سے بیان کئے ہیں جن کا مختصر ذکر درج ذیل ہے : امیر نے لکھا کہ ڈیورنڈ ، پشاور سے کابل کے لئے ۱۹ ر ستمبر ۱۸۹۳ء کو روانہ ہوا۔کابل میں جرنیل غلام حیدرخان چرخی نے مشن کا استقبال کیا۔ان کو میرے بیٹے حبیب اللہ خان کے مکان میں ٹھہرایا گیا۔روایتی دربار کے بعد ہم نے جلد ہی معاملہ پر گفتگو شروع کر دی۔ڈیورنڈ ایک ہوشیار سیاست دان تھا اور فارسی زبان خوب جانتا تھا۔اس لئے گفتگو اچھے طریق سے