شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 370
370 مولوی عبدالستارخان صاحب کا خاندان - قوم اور وطن مولوی عبدالستار خان صاحب کے والد صاحب کا نام دیندار خان تھا۔وہ موضع بل خیل خوست صوبہ پکتیا افغانستان کے رہنے والے تھے۔اُن کا قبیلہ منگل تھا جس کی ایک شاخ، شریف زئی سے تعلق رکھتے تھے۔بزرگ صاحب کا خیال تھا کہ شریف زئی دراصل سادات میں سے ہیں۔آپ کے والد صاحب تو آپ کے احمدی ہونے سے قبل فوت ہو چکے تھے لیکن والدہ صاحبہ کو اللہ تعالیٰ نے قبول احمدیت کا شرف عطاء فرمایا۔(۱) ابتدائی حالات مولا نا عبدالستار خان صاحب بیان کرتے ہیں کہ میرے باپ دادا اچھے عالم تھے اور لوگوں کو تعلیم دیا کرتے تھے۔اُس زمانہ میں دوستم کے لوگ تھے۔ایک وہ جو اچھے عالم تھے وہ شیخان کہلاتے تھے۔دوسرے وہ جو طالب علمی کی حالت میں تھے۔مجھے شیخان کو دیکھ کر خیال آیا کہ یہ لوگ صاحب حیثیت معلوم ہوتے ہیں۔ان کا لباس بھی اچھا اور سفید ہے۔اس لئے مجھے طلب علم کا شوق ہوا۔اس پر میں نے تعلیم حاصل کرنے کے لئے باہر جانے پر کمر باندھی اور میرا ساتھ ان لوگوں سے ہو گیا جن کا تعلق قادری سلسلہ سے تھا۔بالآ خر میں ایک ایسے مولوی کا شاگرد بن گیا جو حضرت صاحبزادہ محمد عبد اللطیف کو جانتا تھا۔میرے اس استاد نے حضرت صاحبزادہ صاحب کی ایسی تعریف کی کہ مجھے ان سے ملنے کا شوق پیدا ہو گیا اور میں انہیں ملنے کی خاطر چل پڑا۔میں ابھی انہیں نہیں مل سکا تھا کہ مستون مقام پر ایک مولوی صاحب کے پاس پہنچ گیا۔یہ مقام خوست میں ہے۔اس مولوی کے پاس ٹھہر گیا اور اس کی شاگردی اختیار کر لی۔اس زمانہ میں حضرت صاحبزادہ صاحب سید گاہ میں تھے اور ان کے پاس بکثرت لوگ تعلیم کے لئے آیا کرتے تھے اور قرآن شریف