شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 286
286 والی نسلوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ طاقت اور قوت کے زمانہ میں اخلاق کو ہاتھ سے نہ دیں کیونکہ اخلاق اصل وہی ہیں جو قوت اور طاقت کے وقت ظاہر ہوں۔ضعیفی اور ناتوانی کی حالت میں اخلاق اتنی قدر نہیں رکھتے جتنی کہ وہ اخلاق قدر رکھتے ہیں جب کہ انسان برسر حکومت ہو۔اس لئے میں آنے والی نسلوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ جب خدا تعالیٰ ان کو ہماری ان حقیر خدمات کے بدلے میں حکومت اور بادشاہت عطا کرے گا تو وہ ان ظالموں کے ظلموں کی طرف توجہ نہ کریں جس طرح ہم اب برداشت کر رہے ہیں وہ بھی برداشت سے کام لیں اور وہ اخلاق دکھانے میں ہم سے پیچھے نہ رہیں بلکہ ہم سے بھی آگے بڑھیں۔‘ (۶۹) ناظر امور عامہ صدر انجمن احمد یہ قادیان کی طرف سے ۱۹؍ فروری ۱۹۲۵ء کو احمدی اخبارات کے نام یہ اطلاع بھجوائی گئی کہ کابل کی سنگساریوں کے متعلق جو اطلاع موصول ہوئی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ جو احمدی کابل میں سنگسار کئے گئے ہیں ان کا نام مولوی عبدالحلیم اور قاری نور علی تھا یہ دونوں کا بل کے مضافات کے رہنے والے تھے مقدم الذکر ایک عمر رسیدہ آدمی تھے اور ایک بے ضرر عالم دین تھے اور موخر الذکر ایک امن پسند نوجوان تھے قرآن مجید کے حافظ تھے اور کابل شہر میں دوکان کرتے تھے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان کے علاوہ تھیں اور احمدی زیر حراست ہیں اور عدالت افغانیہ کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔امیر امان اللہ خان نے ان مظالم کی اس لئے اجازت دی ہے کہ وہ باغیوں کی ہمدردی حاصل کر سکے۔جنکا تعلق قدیم خیالات کے ملانوں سے ہے اس بات کی ضرورت ہے کہ تمام مہذب دنیا کی طرف سے ان مظالم کے خلاف صدائے احتجاج بلند ہو۔تا کہ آئندہ ان ظالمانہ کارروائیوں کا سدِ باب کیا جا سکے۔ہم تمام محبانِ امن و انصاف سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ حکومت کا بل کی اس ظلم اور تعدی کے خلاف آواز اٹھائیں۔(۷۰)