شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 234 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 234

234 ہو کر ولیکن ایک ہی سچا جواب جو احمدی دے سکتے ہیں یہ ہے کہ وہ اس کام کو جاری رکھیں جس کے لیے نعمت اللہ خان شہید کیا گیا۔براہ مہربانی مقبرہ بہشتی کے خاص احاطہ میں صاحبزادہ عبداللطیف اور نعمت اللہ خان کے لیے کتبے لگادیں۔اور تمام احمدیوں سے درخواست کریں کہ وہ شہید مرحوم کے لیے خصوصیت کے ساتھ دعا کریں ہیں۔محمود احمد (۳۲) حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی نے لندن سے خط لکھا اس میں تحریر کرتے ہم ستمبر کی شام کی نماز کے بعد حضور نے کھانا کھایا اور پھر اپنے کمرے میں تشریف لے گئے حضور کی طبیعت اداس تھی اور چہرے پر غم اور رنج کے آثار موجود تھے۔نما ز عشاء کے لیے عرض کرنے کو میں حاضر ہوا تو حضور کچھ خط لکھ رہے تھے اور نہایت مشغول تھے۔دو ایک مرتبہ عرض کرنے پر فرمایا بہت اچھا! مولوی رحیم بخش صاحب کو بھیج دو۔مولوی رحیم بخش صاحب ( مولوی عبد الرحیم صاحب درد۔ناقل ) گئے اور کوئی پندرہ منٹ کے بعد واپس آئے اور نیچے چلے گئے مجھے کہا کہ عرفانی صاحب کو لیتے آنا۔ہم نیچے گئے تو معلوم ہوا کہ حضرت نے ایک تار قادیان کے لیے لکھا ہے۔اور اس کو مولوی صاحب نے ٹائپ کیا اور اسی وقت بڑے تا رگھر میں تار دینے کو چلے گئے (۳۳) حضرت صاحب نماز کے لیے تشریف لائے نماز پڑھائی اور پھر بیٹھ گئے۔چند منٹ کی خاموشی کے بعد حضور نے حافظ روشن علی صاحب کو قرآن شریف سنانے کا حکم دیا۔حافظ صاحب نے سورہ مومنون شروع کی اور ختم کر دی۔حضور سر جھکائے چہرہ پر رومال رکھے ایک ہی حالت میں بیٹھے رہے جب سورۃ ختم ہوئی تو چند لمحات کے بعد حضور نے سراٹھایا اور آنکھوں کو رومال سے پو نچھا۔جس سے معلوم ہوتا تھا کہ حضور کی آنکھوں میں رقت اور سوز سے نمی یا آنسو آئے ہوئے تھے۔