شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 213
213 رف سے سلطنت افغانستان کو خط لکھا گیا جس میں افغانستان میں رہنے والے احمدیوں کی تکالیف اور مصائب کی طرف توجہ دلائی گئی جو انھیں محض احمدی ہونے کی وجہ سے اٹھانا پڑتے ہیں۔اس کے جواب میں سردار محمود خان طرزی وزیر خارجہ افغانستان نے اپنے خاص سرکاری لیٹر ہیڈ پر جو جواب بھجوایا اس میں تحریر تھا کہ مکتوب شما ۳۰ ماہ اپریل ۱۹۲۱ء - - بنام این خدمتگار عالم اسلام رسیدہ مضامین و مطالب آن را مطالعه کرد - الی آخیره دانسته شدیم - جوابا می نگارم که در سلطنت اعلیٰ حضرت غازی پادشاہت معظمه افغانستان پیچ یک زحمت یا تکلیفی از طرف حکومت - درباره تابعین و متعلقین شما در خاک افغانستان ابرار نیافته اس کا ترجمہ یہ ہے کہ آپ کا خط ۳۰ / اپریل ۱۹۲۱ء جناب جلالت مآب جمال پاشا اور عالم اسلام کے اس خدمتگار کے نام پہنچا جس کے تمام مطالب و مضامین سے آگا ہی ہوئی جوا با لکھا جاتا ہے کہ اعلیٰ حضرت غازی کے عہد حکومت میں کسی قسم کی زحمت یا تکلیف حکومت کی طرف سے کا بل کی سرزمین میں رہنے والے آپ کے ساتھیوں اور متعلقین کو نہیں پہنچائی جاتی “ اس مکتوب میں یہ بھی لکھا ہے کہ اگر سیاہہ اشخاص تابعین خود را که در خاک افغانستان سکونت دارند برائے ما بفرستید ممکن است اگر تکلیفی درباره شاں وارد شده با شد رفع شود اس حصہ کا اردو تر جمہ یہ ہے کہ اگران احمدیوں کی فہرست جو ملک افغانستان میں سکونت رکھتے ہیں ہمارے پاس بھیج دی جائے تو ممکن ہے کہ اگر انھیں کوئی تکلیف پیش آئے تو رفع کر دی جائے‘ (۱۲) (۲) ایک اور مکتوب جو افغانستان کے قونصل جنرل مقیم ہندوستان نے جماعت احمدیہ شملہ ہندوستان کے ایڈریس کے جواب میں لکھا اس میں درج ہے کہ