شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 202 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 202

202 جاتے تو امیر امان اللہ خان کے بادشاہ بننے کی بظاہر کوئی امید نہ تھی لیکن قدرت چونکہ افغانستان کی عنان حکومت امیر امان اللہ خان کو دینا چاہتی تھی اس لیے واقعات بھی اسی کے مطابق پیش آئے۔سردار عنایت اللہ خان کافی عرصہ تک اپنے محل میں نظر بند ر کھے گئے جب ان کو نظر بندی کی قیود سے آزاد کیا گیا تو وہ یکہ و تنہا تھے۔برگیڈئیر جنرل Sir Per Sykes اپنی کتاب A History of Afghanistan میں بیان کرتا ہے امیر حبیب اللہ خان شکا رکا شوقین تھا خاص طور پر Snipe Shooting پسند کرتا تھا وہ اس غرض سے پغمان کے علاقہ میں گیا ہوا تھا اس کے ساتھ جو محافظ تھے ان کا کمانڈ ر احمد شاہ خان تھا جو جنرل محمد نادر خان کے خاندان سے تھا یہ خاندان بالعموم مصاحبین یا سرداران پشاور کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔۲۰ فروری 1919ء کی صبح کو معلوم ہوا کہ کوئی نا معلوم قاتل بادشاہ کے خیمہ میں گھس آیا اور اس نے اسے کان کے راستہ شوٹ کر دیا۔اس وقت بعض ملا ؤں پر بھی شک کیا گیا تھا جن کے بعض بڑے مولویوں کو امیر حبیب اللہ خان نے اس بناء پر موت کی سزا دی تھی کہ وہ اس کی حکومت کے خلاف ایک سازش میں شریک تھے اس لیے امکان تھا کہ شاید ان کے مریدوں نے انتقام کے لیے قتل کیا ہو۔جب امیر حبیب اللہ خان قتل ہوا تو اس وقت امیر کی بیوی علیا حضرت جو امان اللہ خان کی والدہ تھی اور سردار نصر اللہ خان اور جنرل محمد نادر خان وغیرہ کیمپ میں یا اس کے آس پاس موجود تھے نئے بادشاہ کا انتخاب سردار نصر اللہ خان اور سردار عنایت اللہ خان کے مابین ہونا تھا۔نصر اللہ خان قدیمی خیالات کی پارٹی کا نمائندہ تھا اور افغانستان کے ملا اور سرحد کے قبائلی اس کے حق میں تھے۔سردار عنایت اللہ خان امیر حبیب اللہ خان کا بڑا بیٹا تھا اسکی عمر ۲۱ سال تھی لیکن کوئی پارٹی اسکی مددگار نہ تھی ۲۱ فروری 1919ء کو جلال آباد میں عام در بار ہوا جس میں سردار عنایت اللہ خان نے سردار نصر اللہ خان کے امیر افغانستان مقرر کیے جانے کی توثیق کر دی۔وائسرائے ہند کو جب اس انتخاب کی اطلاع دی گئی تو یہ بھی لکھا گیا کہ سردار نصر اللہ خان افغانستان کے ملاؤں اور قبائلیوں میں بہت مقبول ہے۔سردار امان اللہ خان جو