شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 106
106 رہتے تھے اور دوسرے پیر مانڑ کی شریف سجادہ نشین علاقہ خٹک تھے جن کا نام ملا عبدالوہاب تھا۔اگر چہ یہ دونوں اخوند صاحب سوات کے مرید تھے لیکن باہم اختلاف اور عداوت پیدا ہو گئی تھی۔پیر صاحب مانڑ کی شریف کی یہ تعلیم تھی کہ چلم اور نسوار کا استعمال حرام ہے اور نماز میں تشہد میں رفع سبابہ درست نہیں۔سرحد کے قبائلی جو اپنے زعم میں بے قصور انگریزوں کو قتل کرتے ہیں اور اسے جہاد قرار دیتے ہیں ان کا یہ فعل حرام ہے کیونکہ جہاد بالسیف مسلمان بادشاہ کے بغیر درست نہیں۔اس کے بالمقابل ملا صاحب ہڑہ قبائلی قتل و غارت کو جو وہ انگریزوں کے خلاف کرتے تھے جہاد کے نام سے موسوم کرتے تھے اور لڑنے والوں کو غازی قرار دیتے تھے۔انہوں نے رفع سبابہ کو اپنے مریدوں پر لازمی قرار دے دیا تھا اور چلم اور نسوار کے استعمال کو حرام نہیں قرار دیتے تھے۔ان دونوں پیروں کے اختلافات باہمی عداوت اور قتل و غارت تک پہنچ گئے اور اس کا اثر سوات، بنیر ، باجوڑ ، علاقہ مہمند ، آفریدی و خٹک تک پہنچ گیا اور افغانستان میں بھی ان اختلافات نے خصومت کی شکل اختیار کر لی۔سردا ر نصر اللہ خان کا تعلق ملا صاحب ہڑہ سے تھا کیونکہ وہ بھی انگریزوں سے جنگ و جہاد کا شائق تھا۔حضرت صاحبزادہ صاحب چونکہ احمدی تھے اور اس بناء پر ظالمانہ قتل و غارت کے مخالف تھے اس لئے سردار نصر اللہ خان حضرت صاحبزادہ صاحب کا مخالف ہو گیا اور ان کو نقصان پہنچانے کے لئے تاک میں رہتا تھا۔(۱۰۷) سردار نصر اللہ خان کے اصرار اور دباؤ میں آکر دو ملا حضرت صاحبزادہ صاحب کے خلاف فتویٰ دینے پر آمادہ ہو گئے۔ان کے نام قاضی عبدالرزاق ملائے حضور امیر اور قاضی عبدالرؤوف قندھاری تھے۔ان ملانوں نے اپنے فتوی میں یہ لکھا کہ اس سے قبل عبدالرحمن نام ایک شخص کو امیر عبدالرحمن خان نے قتل کروایا تھا اس پر بھی یہی الزام تھا کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کا مرید ہے جن پر ہندوستان کے علماء نے کفر کا فتویٰ لگایا ہے اس لئے اس کے ماننے والے بھی کافر ہیں لہذا ہم بھی یہ فتویٰ دیتے ہیں کہ مولوی عبد اللطیف کو بھی کافر