شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 105
105 السلام آسمان پر نہیں ہیں وہ فوت ہو چکے ہیں۔اس پر حضرت صاحبزادہ صاحب نے فرمایا کہ میں تو آسمان سے نہیں آیا اگر میں وہاں سے آیا ہوتا تو تمہارے باپ کے بارہ میں خبر دیتا کہ وہ کس ہاویہ میں پڑا ہے۔اس پر سردار نصر اللہ خان حضرت صاحبزادہ صاحب سے مخاطب ہوا کہ تم اس طرح مت کہو اور میرزا کی بات چھوڑ دوور نہ میں تمہیں مار دوں گا۔اس پر حضرت صاحبزادہ صاحب نے قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی: فَتَمَنَّوُ الْمَوْتَ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِين - اس پر سردار نصر اللہ خان بولا کہ یہ شخص تو ابھی تک قرآن پڑھتا ہے اسے میرے دربار سے دور کرو۔سردار نصر اللہ خان نے حضرت صاحبزادہ صاحب پر کفر کا فتویٰ لگوانے کی بہت کوشش کی اور پراپیگنڈا کیا اور مختلف طریقوں سے امیر حبیب اللہ خان پر دباؤ ڈالتا اور اس کو ڈراتا رہا۔سردار نے امیر سے کہا کہ یہ شخص جنوبی علاقوں میں بڑا اثر ورسوخ رکھتا ہے اگر اسے جلد قتل نہ کیا گیا تو افغانستان میں احمدیت پھیل جائے گی اور بالآ خر آپ کو افسوس ہو گا۔امیر نے کہا کہ میں نے یہ معاملہ میزان التحقیقات میں بھجوا دیا ہے وہاں سے کاغذات آجائیں تو پھر فیصلہ کروں گا۔اس پر سردار نصر اللہ خان نے کہا کہ اگر آپ اس کو ملزم قرار دینے کے لئے کاغذات کا انتظار کرتے رہے تو یہ سن لیں کہ جو حالات مجھے بتائے گئے ہیں ان کے مطابق نہ اس شخص پر کوئی الزام لگتا ہے اور نہ ہی اس پر کفر کا فتو ی لگایا جا سکتا ہے۔اس پرا میر حبیب اللہ خان نے کہا کہ پھر اب کیا ہو گا۔اس پر سردار نصر اللہ خان نے کہا کہ اگر سیاسی پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کا اب بندوبست نہ کیا گیا تو بڑا نقصان ہوگا۔(۱۰۶) سردار نصر اللہ خان کی مخالفت کی وجہ جناب قاضی محمد یوسف صاحب بیان کرتے ہیں کہ صوبہ سرحد میں اخوند صاحب سوات ملا عبد الغفور کے دو مشہور مرید تھے۔ایک کا نام ملا نجم الدین ہڈہ تھا جو مہمند علاقے میں